بلوچستان میں وزیراعلی پیپلز پارٹی ، گورنر ن لیگ کا ، فارمولا طے

sarfraz bugti & Jaffer mandokhel
کیپشن: sarfraz bugti & Jaffer mandokhel
سورس: web desk

 ویب ڈیسک :پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاق کے بعد بلوچستان میں بھی شراکت اقتدار کا فارمولا طے پایا ہے جس کے تحت گورنر، سپیکر صوبائی اسمبلی اور سینیئر وزیر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہوگا جبکہ وزیراعلی پیپلز پارٹی سے ہوگا۔ باپ پارٹی کو دو صوبائی وزارتیں ملیں گی۔

دوسری جانب گورنر کے لیے مسلم لیگ ن پارٹی کے صوبائی صدر جعفر مندوخیل کو صوبے کا گورنر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے ممکنہ طورپر سرفراز بگتی وزیراعلی بلوچستان ہوں گے۔
فی الحال پیپلز پارٹی نے وزارت اعلیٰ کے لیے مختلف ناموں پر غور شروع کر رکھا ہے جس میں صادق عمرانی، نواب سرفراز بگٹی، ثناء اللہ زہری اور ظہور بلیدی شامل ہیں۔ 
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان شراکت اقتدار اور حکومت سازی کے حوالے سے قائم کمیٹیوں نے دونوں جماعتوں کی نشستوں کو سامنے رکھتے ہوئے طے کیا ہے کہ صوبے میں دونوں جماعتوں کو ابتدائی طور پر چھ چھ وزارتیں دی جائیں گی اور اضافے کی صورت میں تناسب کو برقرار رکھا جائے گا۔ 

اسی طرح دونوں جماعتوں نے اپنی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کو بھی اقتدار کا ساجھی بنایا ہے اور اس کو دو وزارتیں دی جائیں گی۔ ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی کا تعلق بھی پی پی پی سے ہوگا۔  

بلوچستان میں پی پی پی کو مخصوص نشستوں کے بعد 19اور مسلم لیگ ن کو 18نشسیں حاصل ہوں گی جبکہ حکومت سازی کے لیے 33 نشستیں درکار ہیں۔ باپ ، اے این پی کو شامل کرنے کے بعد بلوچستان اسمبلی میں حکمران اتحاد کی تعداد 40 سے تجاوز کر جائے گی۔