ایران کی بحرہ احمر میں جنگی جہاز تعینات کرنے کی تصدیق

ایران کی بحرہ احمر میں جنگی جہاز تعینات کرنے کی تصدیق
ایران نے کشیدگی میں اضافے کے بعد بحیرہ احمر میں جنگی جہاز تعینات کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی کہ تہران نے بحیرہ احمر میں ایک جنگی بحری جہاز بھیجا ہے کیونکہ یہ علاقہ تیزی سے ملٹرائیذڈ ہورہاہے۔ آئی آر آئی ایس (IRIS) البرز، ایرانی فوج کے 94ویں بحری بیڑے کا حصہ ہے جو یمن کے قریب آبنائے باب المندب سے ہوتا ہوا بحیرہ احمر تک پہنچا۔ یہ جنگی جہاز اصل میں نصف صدی قبل، 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اس کی مرمت کی گئی تھی اور چار سال قبل اس میں نئے جنگی نظام نصب کیے گئے تھے تاکہ یہ فوج کی بحری قوت میں دوبارہ شامل ہو سکے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران کے سیکورٹی چیف علی اکبر احمدیان نے حوثی باغیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد عبدالسلام سے ملاقات کی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ملاقات کہاں یا کب ہوئی لیکن ایرانی میڈیا نے احمدی کے حوالے سے کہا کہ تہران نے فلسطینیوں کی حمایت کرنے اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے پر حوثیوں کی تعریف کی۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔