اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ: پاسداران انقلاب کے سربراہ اور جوہری سائنسدان شہید

اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ: پاسداران انقلاب کے سربراہ اور جوہری سائنسدان شہید
کیپشن: اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ: پاسداران انقلاب کے سربراہ اور جوہری سائنسدان شہید

ویب ڈیسک: اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور فضائی حملوں میں اہم فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی سمیت معروف جوہری سائنسدان فرید عباسی اور محمد مہدی شہید ہو گئے۔

ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت تہران کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو "پیشگی دفاع" قرار دیا ہے اور ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے حملے میں حصہ لیا اور 6 سے زائد فوجی تنصیبات، بشمول اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی رہائش گاہیں، نشانہ بنائی گئیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کے مرکزی دفتر پر بھی حملہ کیا گیا، جبکہ ختم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

مزید برآں، ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سیکیورٹی کمانڈر شمخانی شدید زخمی ہیں۔ تہران کے رہائشی علاقوں میں بھی حملے کیے گئے جن میں کئی شہری جاں بحق ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حملے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، اور کارروائی کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایرانی حکومت سے ہے۔

ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ ملک کا دفاعی نظام ہائی الرٹ پر ہے اور اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس جاری ہے۔

دوسری جانب، امریکہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ان حملوں کو اپنے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا، تاہم امریکہ کی ترجیح صرف اپنی افواج کا تحفظ ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دو روز بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا امکان تھا۔ ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران پر حملے کا عندیہ دیا تھا اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا۔