مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کے دوران اظہار رائے پر کڑی پابندیاں عائد

ویب ڈیسک: حالیہ انتخابات کےدوران مودی نےاپنی انتخابی مہم میں مقبوضہ کشمیر کےحوالے سے جھوٹ کےپہاڑکھڑےکردیے لیکن دی وائر کے حالیہ انٹرویو نے تمام حقائق آشکار کر دیے۔

مودی کےدعووں کے برعکس مقبوضہ کشمیر کے حالات پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہو چکے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی عوام شدید گھٹن کا شکار ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے 3 حلقوں میں پولنگ کے عمل کے دوران 2 مختلف نمائندوں کی گفتگو میں انہوں نے کشمیری عوام کی حالت زار بیان کی،

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی وحید پارہ کا کہنا ہےکہ کشمیر میں لوگ بات کرنے سے ڈرتے ہیں،کیونکہ یہاں مکمل ریڈ راج چل رہا ہےاورتمام ایجنسیوں کو ہمیں خاموش کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔

کریک ڈاؤن کے باعث میڈیا لکھتا نہیں ہے، بار خاموش ہے اور ہمارے سارے فورمز بھی بند کردیے گئے ہیں،کشمیر میں جو بات کرتا ہے اس پر یو اے پی اے کے چارجز تھوپ دیے جاتے ہیں، 

کشمیرمیں 5 اگست کے بعد دو طرح کی سیاسی پارٹیاں بن چکی ہیں، ایک وہ جو دہلی کی بات کرتی ہیں انکو چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ جو کشمیر کی بات کرتی ہیں انہیں بےدخل کردیا جاتا ہے، 

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے 40 ورکربی جےپی کےکریک ڈاؤن کےباعث پارٹی چھوڑنے پرمجبور ہوگئے، انتخابات کے دوران بھی جو پارٹی مودی سرکار کے حق میں بات کرتی ہے اسے چھوٹ ملتی ہے جبکہ اسکے خلاف بات کرنے والوں کیخلاف باقاعدہ کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے، اس وقت کشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ لوگوں کو بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی،

 جموں وکشمیرنیشنل کانگریس آغا روح اللہ نےکہا کشمیرمیں آزادی رائے کا یہ حال ہے کی واٹس ایپ سٹیٹس پر ایک ایموجی لگانے پر یو اے پی اے کے چارجز لگا دیے گئے، کشمیرمیں ملازمین کو ڈرا دھمکا کر پوجا پاٹ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ہم مودی سرکارکو بتانا چاہتےہیں کہ کشمیر کےمتعلق تمام فیصلے ہم خود لیں گے، ہمیں غیر ملکی ڈیلیگیشن کو متاثر کرنے کیلئے سمارٹ سٹی کی نہیں بلکہ اپنی عوام کی بقاء کیلئے پل بنانے کی ضرورت ہے۔

مودی سرکار کی جانب سے ایک انتہائی اہم پل کی تعمیر رکوا کر غیر ملکی سیاحوں کو خوش کرنے کیلئے ٹائلیں بچھانے پر عوام کا پیسا ضائع کیا جارہا ہے،پل کی تعمیر رکوانے سے 7 کشمیری بچے ہلاک ہوگئے۔

کشمیر میں لوگ گھٹن زدہ ماحول میں خاموش ہیں لیکن اسے امن یا بی جے پی کی کامیابی نہیں کہا جاسکتا،مودی کا گودی میڈیا ایک جانب آزاد کشمیر میں بد امنی کے متعلق جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے لیکن دوسری جانب دی وائر جیسی نیوز ایجنسی حقائق پرمبنی صحافت کی خاطر سرگرم ہے 

دی وائرکی حالیہ رپورٹ نےمقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کو عالمی سطح پر بےنقاب کردیا لیکن کیا اب بھی مودی سرکار اور گودی میڈیا ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا جھوٹا پروپیگینڈا جاری رکھیں گے؟