154 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے 66 میں وائس چانسلر کی آسامی خالی ہونے کا انکشاف

154 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے 66 میں وائس چانسلر کی آسامی خالی ہونے کا انکشاف
کیپشن: 66 out of 154 government universities revealed that the post of vice-chancellor is vacant

ویب ڈیسک: سرکاری یونیورسٹیوں جامعات میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتیوں کے معاملے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کی جامعات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ محکمہ تعلیم میں بیٹھے افسران کیا مکھیاں مار رہے ہیں۔ منظم طریقے سے پاکستان کے مستقبل کو تباہ کیا جارہا ہے۔ ملک میں سبھی کچھ آہستہ آہستہ دھنستا جارہا ہے۔

پاکستان بھر میں 154 سرکاری جامعات میں سے 66 میں وائس چانسلر کا اضافی چارج یا پھرعہدے خالی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ اگر گالم گلوچ کے اعداد و شمار جاری ہوں تو پاکستان پہلے نمبر پر آئے گا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری جامعات میں مستقل وائس چانسلرکی تعیناتی سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کی 29 میں سے 5 جامعات میں وائس چانسلر نہیں۔

بلوچستان کی 10 میں سے 5 جامعات میں قائم مقام وائس چانسلر تعینات ہیں۔ خیبر پختونخوا کی 32 میں سے 16 جامعات میں وائس چانسلر کا اضافی چارج دیا گیا ہے کہ 6 میں وائس چانسلر تعینات نہیں۔

پنجاب کی 49 میں سے 29 جامعات میں قائم مقام وائس چانسلر ہیں۔ سندھ کی 29 میں سے 5 جامعات میں اضافی چارج پر وائس چانسلر تعینات ہیں۔

چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگ اسکول تباہ کرکے سمجھ رہے ہیں کہ اسلام کی کوئی خدمت انجام دی جارہی ہے۔ اسکول تباہ کرنے والوں سے حکومتیں مذاکرات بھی کرتی ہیں۔ قومی ایئر لائن کی طرح جامعات میں بھی تباہی کا سماں ہے۔