کورونا ویکسین لگنے کی جگہ پر مقناطیس کیوں چپکتا ہے؟

کورونا ویکسین لگنے کی جگہ پر مقناطیس کیوں چپکتا ہے؟

ویب ڈیسک: 16 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کرنے والی عالمی وبا کورونا وائرس نے 34 لاکھ زندگیاں نگل لی ہیں۔ 2019 کے اختتام پر سامنے آنے والے اس وائرس نے پوری دنیا کو اپاہج کر رکھ دیا۔

اس عالمی وبا سے کوئی ایک آدھ ملک متاثر نہیں بلکہ تقریباً ساری دنیا ہی اس کی زد میں آئی ہوئی ہے۔ وبا کے پھیلاؤ کے بعد دنیا کی بڑی بڑی شخصیات نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششیں شروع کیں۔ عالمی طاقتوں نے وبا کی روک تھام کے لیے ویکسین بنانے کا کام شروع کیا۔

اس دوران جو اہم ترین چیز ہے وہ انسان جسم میں چپ داخل کیا جانا ہے۔ سب سے پہلے مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ ایسی چپ کو انسانی جسم میں داخل کرنے کا پلان کر رہے ہیں جس سے بعد میں نظر رکھی جا سکے گی۔ اس پر بل گیٹس نے ردعمل دیتے کہا تھا کہ یہ ایک افسوسناک الزام ہے کیونکہ انھوں نے کورونا کے لیے سب سے زیادہ عطیات دیئے تھے۔

اب نیا شوشہ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ لوگ ایسی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں پر کورونا ویکسین لگی ہوتی ہے وہاں پر بعد ازاں مقناطیس چپک جاتا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ دعوے غیر مصدقہ ہیں، ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ویکسین میں نہ دھات ہوتی ہے اور نہ کوئی مائیکرو چپ جس سے مقناطیس کے لیے کشش پیدا ہو سکے۔ ایسی ویڈیوز کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ اور امریکا کی ویکسینز میں ایلومینیم اتنی مقدار میں ہوتی ہے جتنا عام کھانے پینے کی چیزوں میں، لیکن وہ مقدار میں اتنی نہیں ہوتی کہ مقناطیس کو کھینچ سکے۔ آئر لینڈ کے ماہرین نے ایسی ویڈیوز اور دعوؤں کو مکمل طور پر بکواس قرار دیا ہے۔

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔