’’سپیکر سے نہیں صرف اللہ سے معافی مانگوں گا ‘‘

’’سپیکر سے نہیں صرف اللہ سے معافی مانگوں گا ‘‘
اسلام آباد ( پبلک نیوز) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کل ہم قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں گے ٗصرف اللہ سے معافی مانگوں گا اور کسی سے نہیں، اس ملک کی عوام شناختی کارڈ ہاتھ میں اٹھا کر چینی خریدنے پر مجبور ہے ٗچینی کا معاملہ بڑا سیدھا ہے، قصور وار وزیراعظم اور اسکی کابینہ ہے۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دو دن پہلے ابصار عالم کو پارک میں گولی ماری گئی ٗآج تک کسی کو پتہ نہیں ہے وہ لوگ کون تھے ٗیہ واضح معلوم ہوتا ہے اب صحافیوں کو جانی خطرہ بھی ہے ٗاس وقت ملک کی معیشت ، اخلاقی قدریں سب زوال پذیر ہیں ٗآج صحافت بھی خطرات میں چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ڈیڑھ سال سے جیل میں ہے ابھی تک الزام کوئی نہیں لگ سکا ٗوزیراعظم اور کابینہ کو بھی ڈیڑھ سال جیل میں ڈالیں پھر پتہ چلے گا ٗکسی کو معلوم نہیں ابصار عالم کو گولی مارنے والے کون تھے ٗاس کے پیچھے محرکات کیا تھے ٗمیڈیا کو اب صرف دھمکیاں نہیں بلکہ جان کا خطرہ بھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی پارلیمان، خارجہ پالیسی زوال پزیر ہے ٗآج صحافت بھی دھمکیوں، دباؤ اور اب جانی خطرے تلے چل رہی ہے ٗپارلیمان اس معاملے کو اٹھائے ٗہم یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھائیں گے ٗجو سپیکر ناموس رسالت پر بات نہ کرنے دے اس سے امید نہیں کہ وہ صحافت پر بات کرنے دے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہاں پر وزراء کی فوج ہے جن کی نوکریاں روز بدلی جاتی ہیں ٗیہاں خیرات کی ویکسین لگائی جا رہی ہے حکومت ایک ٹیکا نہیں خرید سکی ٗواحد ملک ہے یہ جہاں عوام اپنے پیسے سے ویکسین لگوانے پر مجبور ہیں ٗپوری دنیا نے کورونا پر قابو پا لیا لیکن پاکستان میں بڑھتا جا رہا ہے ٗاین سی اوسی کو بند کر دیں یہ عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکا۔اس سے قبل سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے ٗ معزز جج نے استفسار کیا ٗآپکے وکیل کی طبیعت اب کیسی ہے ، جس پر شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ جی انھیں کورونا ہے ، ائسولیشن میں ہیں ، منگل تک امید ہے ٹھیک ہو جائیں گے۔جس کے بعد عدالت نے شاہد خاقان عباسی کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دیدی۔