ایمبریو زندگی ہے، عدالتی فیصلے کے بعد آئی وی ایف روکدئیے گئے

embryo is life
کیپشن: embryo is life
سورس: google

ویب ڈیسک :امریکی ریاست الاباما کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد کہ منجمد جنین ( ایمبریو) کو بچہ سمجھا جائے اور یہ کہ کسی شخص کو حادثاتی طور پر انھیں ضائع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، امریکہ میں تولیدی علاج کے حوالے سے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔

جنوبی امریکی ریاست میں ایک بڑے فرٹیلٹی کلینک نے اس فیصلے کے تناظر میں تولیدی عمل کے ان وٹرو فرٹیلائزیشن ( آئی وی ایف) طریقہ علاج کو اس خدشے کے پیش نظر روک دیا ہے کہ کہیں وہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں مجرمانہ عمل کے مرتکب نہ ہو جائیں۔

یونیورسٹی آف الاباما برمنگھم نے کہا کہ وہ خواتین کے بیضہ دانی سے انڈوں کی بازیافت جاری رکھے گی۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ آئی وی ایف عمل کے اگلے مرحلے کو روک دے گا، جس میں انڈوں کو بچہ دانی میں رکھنے سے پہلے نطفے سے فرٹیلائز کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف الاباما برمنگھم جو ریاست کی معروف طبی سہولیات میں سے ایک ہے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ یہ ہمارے مریضوں کی آئی وی ایف کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کی کوشش کو متاثر کرے گا۔‘

قدامت پسند گروپوں نے الاباما کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ سب سے چھوٹا جنین بھی قانونی تحفظ کا مستحق ہے۔

یہ مقدمہ تین جوڑوں کی طرف سے دائر کیے گئے قتل کے ایک غلط مقدمے سے شروع ہوا، جن کے ایمبریو 2020 میں ایک فرٹیلٹی کلینک میں ضائع ہو گئے تھے۔ دراصل ایک مریض اس جگہ چلا گیا تھا جہاں ایمبریو رکھے گئے تھے، اس نے انھیں اٹھایا اور غلطی سے گرا دیا۔ جس کے نتیجے میں جنین ضائع ہو گئے تھے۔

جوڑوں نے سنٹر فار ری پروڈکٹیو میڈیسن اور موبائل انفرمری ایسوسی ایشن کے خلاف غلطی سے موت کے قانون کے تحت مقدمہ چلانے کی کوشش کی۔ یہ قانون جنین سے متعلق ہے، لیکن آئی وی ایف کے عمل کے نتیجے میں جنین سے متعلق نہیں تھا۔

اس سے قبل ایک ذیلی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ جنین کو ایک شخص یا بچے کے طور پر سمجھا نہیں جا سکتا لہٰذا غلطی سے موت کا مقدمہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ الاباما سپریم کورٹ نے پھر یہ سوال اٹھایا کہ آیا یہاں قانون لاگو ہوتا ہے۔

رواں ہفتے عدالت نے جوڑوں کا ساتھ دیا لیکن گذشتہ جمعے کے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ جنین کو ’بچے‘ سمجھا جاتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غلطی سے موت کا قانون ’تمام غیر پیدا ہونے والے بچوں پر لاگو ہوتا ہے، چاہے ان کا مقام کچھ بھی ہو۔‘

یعنی اس فیصلے میں جنینوں کا حوالہ دیا گیا جو اکثر کرائیوجینک فریزر میں محفوظ کیے جاتے ہیں اور جنھیں ایکسٹراؤٹرائن بچے کہا جاتا ہے۔

اکثریتی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے چیف جسٹس ٹام پارکر نے فیصلے میں لکھا کہ ’پیدائش سے پہلے ہی تمام انسانوں کے پاس خدا کی شبیہ موجود ہے، اور ان کی زندگیوں کو اس کے جلال کو متاثر کیے بغیر ضائع نہیں کیا جا سکتا۔‘