کارکن پوری تیاری رکھیں، کال دینے والا ہوں، عمران خان

کارکن پوری تیاری رکھیں، کال دینے والا ہوں، عمران خان
اسلام آباد میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل (سی ای سی) سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب کال دوں تو کارکنوں کی تیاری پوری ہونی چاہیے،میں کال دینے والا ہوں، سب نے پورا زور لگا کر میرے ساتھ نکلنا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پولیس والوں نے عورتوں اور بچوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی، کیا وہ مجرم تھے؟ پولیس والے جو کام کر رہے تھے وہ اپنے ضمیر کے خلاف کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ کہاں لکھا ہے کہ پر امن احتجاج پر تشدد کریں، لانگ مارچ میں کون سے دہشت گرد تھے؟ پرامن شہری تھے، جمہوریت میں احتجاج شہریوں کا حق ہوتا ہے، راوی کے پل سے پولیس والوں نے ہمارے نوجوان کو پھینک دیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہمارے خلاف تین لانگ مارچ ہوئے، کیا ہم نے کبھی ان کے راستے روکے؟ کبھی فضل الرحمان نکل آتا تھا، کبھی بلاول بھٹو نکل آتا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران عوام کا سمندر دیکھ کر ان کی ’کانپیں ٹانگنا‘ شروع ہوگئی تھیں۔ عمران خان نے کہا کہ اپنے دشمن پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، اپنے لوگوں پر ربر بلٹس اور آنسو گیس چل رہی تھی، یہ دشمن نہیں تھے، یہ اپنے شہری تھے، یہ کہہ رہے تھے کہ ہم پر باہر کی سازش سے حکومت مسلط کی گئی، جمہوریت میں احتجاج شہریوں کا حق ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے دو ماہ میں جتنی مہنگائی کی ہم نے ساڑھے تین سالوں میں نہیں کی، بجلی، پیٹرول غائب ہیں، روپیہ بھی گر رہا ہے، بجلی کے یونٹ کی قیمت مزید بڑھنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک تیزی سے آگے جا رہا تھا چوروں نے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، ہمیں صاف و شفاف الیکشن چاہیے، الیکشن کمیشن شفاف الیکشن نہیں کروا سکتا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ شہباز شریف کی جتنی بھی ڈیولپمنٹ تھی وہ اشتہاروں میں تھی، ایف آئی اے شہباز شریف اور اس کے بیٹوں کی کرپشن کی تحقیقات کر رہا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ بڑے بڑے ڈاکوؤں سے سب ڈریں گے کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا، انصاف کا نظام ختم ہوگیا، نیب کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں، ایک ادارہ بچا ہوا ہے وہ عدلیہ ہے، اگر سپریم کورٹ سماعت کرتی ہے تو یہ اس پر حملہ کر دیتے ہیں، بلیک میل مافیا کو جہاں سے خطرہ ہوگا، اسے دھمکائیں گے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے، پاکستان میں انصاف کا نظام خطرے میں ہے، جنہوں نے چوری پکڑنی ہے وہ سب خود کو بچا رہے ہیں.
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔