موٹروےپولیس افسر سے بدکلامی کیس: جن کے شوہر ہوتے ہیں وہ جیل میں نہیں ہوتیں،ملزمہ 

موٹروےپولیس افسر سے بدکلامی کیس: جن کے شوہر ہوتے ہیں وہ جیل میں نہیں ہوتیں،ملزمہ 
کیپشن: Motorway police officer abuse case: Those who have husbands are not in jail, accused

ویب ڈیسک: موٹروے پولیس افسر سے بدکلامی اور گاڑی سے کچلنے کے معاملے میں ملزمہ نے عدالت میں جج کے سامنے بیان دیا ہے کہ جن کے شوہر ہوتے ہیں وہ جیل میں نہیں ہوتیں۔ 

تفصیلات کے مطابق موٹروے پولیس افسر سے بدکلامی کرنے اور گاڑی سے کچلنے کے معاملے میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ مقدمے کی گرفتار نامزد ملزمہ فرح زاہرہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد ممتاز ہنجرا نے کی۔ 

ملزمہ فرح زاہرہ نے عدالت سے سوال کیا کہ عدالت میں کیمرے کیوں لگے ہیں؟ جج نے جواب دیا کہ کیمرے آپ کے لیے نہیں میرے لیے لگے ہیں۔ جج نے ملزمہ سے سوال کیا کہ آپ کو کوئی جیل میں ملنے آتا ہے۔ ملزمہ نے جواب دیا کہ ایک بار بھائی آیا تھا اس کے بعد وہ بھی نہیں آیا اور کوئی نہیں آتا۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے شوہر آپ سے ملنے نہیں آئے؟ ملزمہ نے جواب دیا کہ  جن کے شوہر ہوتے ہیں وہ جیل میں نہیں ہوتیں۔ میں 20 دن سے جیل میں ہوں اور مجھے سخت اذیت دی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر میں میرا نام نہیں ہے 18 دن کے بعد مجھے ایف آئی آر کی کاپی ملی ہے۔ مجھے بے گناہ جیل میں رکھا ہوا ہے۔ مجھے اس جرم کی سزا دے رہے ہیں جو میں نے نہیں کیا۔ جج صاحب آپ انصاف کریں اور میری ضمانت لے لیں مجھے اس جھوٹے مقدمہ میں سزا مل رہی ہے۔ مجھے چودہ دن جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا۔ آج بیس دن ہو گئے ہیں میں جیل کاٹ رہی ہوں۔ 

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا وکیل پیش نہیں ہوتا؟ ملزمہ نے جواب دیا کہ نہیں مجھے نہیں پتہ میرا وکیل پیش ہوتا ہے یا نہیں میں نے وکالت نامہ دستخط نہیں کیا اور وکیل مجھ سے نہیں ملا۔ 

جج نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے وکالت نامے پر دستخط کیے ہیں اور انگوٹھے لگائے ہیں۔ ملزمہ نے بتایا کہ میں نے نہیں دستخط اور انگوٹھے لگائے۔ ملزمہ نے استدعا کی کہ کیا میں اپنا کیس خود لڑ سکتی ہوں مجھے کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ میں معزز عدالت سے درخواست کرتی ہوں میری ضمانت منظور کی جائے۔ مجھے اپنا مقدمہ خود لڑنے کی اجازت دی جائے تا کہ میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکوں۔ 

جج نے ریمارکس دیے کہ آپ کی ضمانت اس کورٹ سے خارج ہوئی ہے آپ ہائی کورٹ سے اپنی ضمانت کروائیں۔ 

ملزمہ نے استدعا کی کہ آپ میری ضمانت منظور کر لیں یا میرے گھر کو سب جیل بنایا جائے۔ میرے گھر میں آپ مجھے پابند کر لیں میں گھر سے پیش ہو جاؤں گی۔ مجھے جیل میں انجکشن لگاتے ہیں مجھے جان کا خطرہ ہے کوئی مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے۔

جج نے استفسار کیا کہ آپ کو کس سے خطرہ ہے کون آپ کو مارنا چاہتا ہے۔ آپ کو ہوم ڈیپارٹمنٹ میں درخواست دینی ہوگی آپ کے گھر کو سب جیل بنایا جائے۔ 

کیس کی آئندہ سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔