واٹس ایپ  نے صارفین کیلئے مضبوط ٹو اسٹیپ ویری فکیشن اور متعدد پاس کیز کا فیچر متعارف کرادیا

واٹس ایپ  نے صارفین کیلئے مضبوط ٹو اسٹیپ ویری فکیشن اور متعدد پاس کیز کا فیچر متعارف کرادیا

(ویب ڈیسک) واٹس ایپ نے اکاؤنٹ سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد نئے فیچرز متعارف کرانا شروع کر دیے ہیں ، جن میں ایک سے زیادہ پاس کیز اور مزید مضبوط ٹو اسٹیپ ویری فکیشن شامل ہیں۔

واٹس ایپ پہلے ہی صارفین کو فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا اسکرین لاک کوڈ کے ذریعے محفوظ لاگ اِن کے لیے پاس کی استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتا تھا، تاہم اب صارفین ہر پلیٹ فارم کے لیے الگ پاس کی بنا سکیں گے۔

واٹس ایپ کے مطابق ایک ارب سے زائد افراد پہلے ہی پاس کی سیٹ اپ کر چکے ہیں، اور اب وہ اپنے اکاؤنٹ کے لیے ایک سے زیادہ پاس کیز شامل کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے سیٹنگز > اکاؤنٹ > پاس کیز میں جاکر پاس کی شامل کی جا سکتی ہے۔

واٹس ایپ نے اپنی ٹو اسٹیپ ویری فکیشن سیکیورٹی کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ اب صارفین صرف 6 ہندسوں کے پن کے بجائے حروف اور نمبروں پر مشتمل مکمل پاس ورڈ استعمال کر سکیں گے، جس میں خصوصی حروف بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد پاس ورڈ کا اندازہ لگانا مزید مشکل بنانا ہے۔ اگر آپ اب بھی ’123456‘ استعمال کر رہے ہیں تو اسے تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

 

کمپنی نے کال اسکرین پر بھی مزید معلومات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں، تاکہ صارفین اپنی کانٹیکٹ لسٹ میں شامل نہ ہونے والے نمبرز سے آنے والی کالز موصول کرنے سے پہلے زیادہ معلومات حاصل کر سکیں۔ یہ اقدام فراڈ اور اسکیم کالز سے بچاؤ کی ایک اضافی حفاظتی تہہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

واٹس ایپ کے مطابق اینڈرائیڈ پر اب کسی غیر محفوظ شدہ کانٹیکٹ کی کال آنے کی صورت میں مزید معلومات دکھائی جائیں گی، مثلاً یہ کہ نمبر کسی دوسرے ملک کا ہے یا نہیں اور آیا صارف اور کال کرنے والے کے کوئی مشترکہ گروپس موجود ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ فراڈ کرنے والے عموماً جلد بازی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے کال اٹھانے سے پہلے صارفین کو مزید معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں۔

کال اسکرین پر اضافی معلومات فراہم کرنا واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کو اسکیمز اور فراڈ سے محفوظ رکھنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ رواں سال کے آغاز سے کمپنی متعدد نئی سیکیورٹی خصوصیات متعارف کرا چکی ہے، جن کا مقصد صارفین کے فراڈ کا شکار ہونے سے پہلے ہی مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

جنوری میں واٹس ایپ نے ’سخت اکاؤنٹ سیٹنگز‘ (Strict Account Settings) کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرانا شروع کیا تھا، جو ایپل کے لاک ڈاؤن موڈ سے مشابہ ہے۔ یہ خصوصیت صحافیوں اور عوامی شخصیات سمیت ایسے افراد کو جدید اور پیچیدہ سائبر خطرات، بشمول اسپائی ویئر حملوں، سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے جنہیں زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس کے دو ماہ بعد مارچ میں میٹا نے اعلان کیا کہ واٹس ایپ اب صارفین کو اس وقت خبردار کرے گا جب کسی ڈیوائس کو اکاؤنٹ سے لنک کرنے کی درخواست مشکوک یا فراڈ پر مبنی ہو سکتی ہے۔ اکاؤنٹ ہائی جیک کرنے کے لیے فراڈ کرنے والے اکثر صارفین کو لنکنگ کوڈ شیئر کرنے یا نقصان دہ کیو آر کوڈ اسکین کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

اسی ماہ کے آغاز میں واٹس ایپ نے ’اسکیم الرٹ‘ (Scam Alert) نامی ایک اختیاری فیچر بھی محدود بیٹا ٹیسٹنگ کے طور پر متعارف کرایا۔ یہ فیچر مقامی مشین لرننگ ماڈل استعمال کرتے ہوئے صارفین کو خبردار کرتا ہے کہ اگر وہ کسی اسکیم کا نشانہ بن رہے ہوں۔

واٹس ایپ کے مطابق دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں 3 ارب سے زیادہ افراد اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے رابطے کے لیے اس میسجنگ سروس کو استعمال کرتے ہیں۔

Watch Live Public News