ملیر جیل سے قیدی کس طرح فرار ہوئے؟ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل 

ملیر جیل سے قیدی کس طرح فرار ہوئے؟ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل 
کیپشن: ملیر جیل سے قیدی کس طرح فرار ہے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل 

ویب ڈیسک: ملیر جیل سے قیدی کس طرح فرار ہوئے؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی۔ملیر جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ آئی جی جیل خانہ جات کو پیش کردی۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل زلزلے کے جاری جھٹکوں کے باعث قیدی مایوس ہوگئے تھے ۔تین جون کی درمیانی تقریبن 12 بج کر 5 منٹ پر بیرکوں سے چیخنا چلانا شروع ہوگیا۔
اہلکاروں نےڈیوٹی افسر اور دیگر سیکورٹی اسٹاف کے ہمراہ  قیدیوں کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ساتھی قیدیوں نے سرکل نمبر چار کے دروازے کو آہنی سلاخوں سے توڑنا شروع کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دیگر عملے کو دھکیل کر مین ماڑی کے  کے علاوہ قیدی دیگر حلقوں میں بھی گئے۔سرکل پانچ اور سرکل دو  کے بہت سے بیرکوں کے تالے توڑ دیئے گئے ۔تالے توڑنے کے بعد ہزاروں قیدی دوڑ پڑے ۔مرکزی دفتر کے  شیشے دروازے کھڑکیاں کمپیوٹر اور دیگر بہت سی چیزیں توڑ دی گئیں۔قیدی مین ماڑی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مین ماڑی پر دو اہلکار ڈیوٹی پر تعینات تھے قیدیوں کی بڑی تعداد نے انہیں قابو کر لیا ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں نے عملے کو مارا پیٹااور رات ڈیڑھ بجے باہر ماڑی پہنچ گئے ۔216 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جس میں 78 قیدیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلایا گیا اور وہ چند منٹوں میں پہنچ گئے ۔ جیل عملہ رینجرز ، پولیس اور ایف سی نے ہزاروں قیدیوں کوواپس جیل میں دھکیل دیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے صورتحال پر قابو پایا گیا۔12 قیدی زخمی ہوئے ایک قیدی طاہر خان ولدیت صادق خان ہلاک ہوگیا۔