ویب ڈیسک: ملیرجیل میں توڑ پھوڑ کے اندرونی مناظر کی تصاویر پبلک نیوز کو موصول ہوگئیں۔
قیدیوں نے بیرکس کا بھاری بھرکم دروازہ بھی توڑا ۔


جیل افسران کے دفاتر میں سامان کی توڑ پھوڑبھی دیکھی جاسکتی ہے۔



(ویب ڈیسک )کراچی کی ساؤتھ زون پولیس نےملیر جیل سے فرار ہونےوالے قیدی کو گرفتار کرلیاہے۔
کراچی پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے گذشتہ شب ملیر جیل سے فرار ہونے والے قیدی کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت صلاح الدین ولد شفیق کے نام سے ہوئی ہے، ملزم گزشتہ شب ملیر جیل سے فرار ہوا تھا، گرفتار ملزم کے خلاف ضابطہ کی کارروائی جاری ہے۔
June 03, 2025
June 03, 2025
ویب ڈیسک: ملیر واقعہ کے بعدسندھ حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو عہدے سے ہٹادیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینئر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے ملیر جیل واقعے پر میڈیا سےگفتگو کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قیدی کل رات ملیر جیل سےبھاگےتھے۔وزیراعلی مرادعلی شاہ نےہنگامی اجلاس بلایا۔بریفنگ میں بتایاگیاکہ216قیدی بھاگےتھے۔پولیس نے79قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا۔ 129قیدیوں کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم ان میں ہارڈ کورکرمنلز نہیں تھے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ فیصلہ کیاہےکہ24گھنٹےمیں اگر قیدی سرینڈر کردیں تو ان قیدیوں کےخلاف سخت کارروائی نہیں ہوگی۔اگرقیدی اگر رضاکارانہ واپس نہیں آئےتو جیل توڑنےکی دفعات پر مقدمہ درج ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ آئی جی جیل کو ہٹانےکا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی جیل کو معطل کردیاگیا ہے۔اس کے علاوہ دو رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے۔ کمیٹی میں کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی شامل ہوں گے۔قیدی چوبیس گھنٹوں میں واپس نہ آئےتو کیسز درج ہوں گے۔آج ہی نئے آئی جی جیل کا تقرر کردیاجائےگا۔پولیس نےہمت کرکے قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا۔حکومت نےواقعے کو سنجیدگی سےلیاہے۔اس جیل واقعے میں دہشتگردی کا عنصر نہیں۔ابتدائی رپورٹ میں زلزلہ صورتحال کی وجہ بنی۔
ویب ڈیسک: ملیر جیل سے قیدی کس طرح فرار ہوئے؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی۔ملیر جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ آئی جی جیل خانہ جات کو پیش کردی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل زلزلے کے جاری جھٹکوں کے باعث قیدی مایوس ہوگئے تھے ۔تین جون کی درمیانی تقریبن 12 بج کر 5 منٹ پر بیرکوں سے چیخنا چلانا شروع ہوگیا۔
اہلکاروں نےڈیوٹی افسر اور دیگر سیکورٹی اسٹاف کے ہمراہ قیدیوں کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ساتھی قیدیوں نے سرکل نمبر چار کے دروازے کو آہنی سلاخوں سے توڑنا شروع کردیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دیگر عملے کو دھکیل کر مین ماڑی کے کے علاوہ قیدی دیگر حلقوں میں بھی گئے۔سرکل پانچ اور سرکل دو کے بہت سے بیرکوں کے تالے توڑ دیئے گئے ۔تالے توڑنے کے بعد ہزاروں قیدی دوڑ پڑے ۔مرکزی دفتر کے شیشے دروازے کھڑکیاں کمپیوٹر اور دیگر بہت سی چیزیں توڑ دی گئیں۔قیدی مین ماڑی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مین ماڑی پر دو اہلکار ڈیوٹی پر تعینات تھے قیدیوں کی بڑی تعداد نے انہیں قابو کر لیا ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں نے عملے کو مارا پیٹااور رات ڈیڑھ بجے باہر ماڑی پہنچ گئے ۔216 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جس میں 78 قیدیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلایا گیا اور وہ چند منٹوں میں پہنچ گئے ۔ جیل عملہ رینجرز ،پولیس اور ایف سی نے ہزاروں قیدیوں کوواپس جیل میں دھکیل دیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے صورتحال پر قابو پایا گیا۔12 قیدی زخمی ہوئے ایک قیدی طاہر خان ولدیت صادق خان ہلاک ہوگیا۔
June 03, 2025
June 03, 2025
ویب ڈیسک: ملیر جیل سے گزشتہ شب فرار ہونے والے قیدیوں میں شامل نوجوان غلام حسین جب تھکن سے نڈھال ہو کر اپنے گھر عبداللہ گوٹھ پہنچا تو ماں کی ممتا نے اسے بانہوں میں سمیٹ لیا، مگر اگلے ہی لمحے قانون کی پاسداری اور ایمانداری کے جذبے نے اس ماں کو ایک بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اس نے اپنے بیٹے کو خود جیل واپس پہنچا دیا۔
"میرا بیٹا بے گناہ ہے، مگر قانون سے بھاگنے کا حق کسی کو نہیں"
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس باہمت بیوہ ماں نے بتایا کہ"رات ساڑھے تین بجے میرا بیٹا غلام حسین گھر آیا اور روتے ہوئے بتایا کہ وہ جیل سے فرار ہوگیا ہے۔ دل تو چاہا کہ اسے سینے سے لگا کر دنیا سے چھپا لوں، مگر فوراً اسے لے کر صبح چار بجے خود جیل کے دروازے پر پہنچ گئی۔"
ان کا کہنا تھا کہ غلام حسین چوری کے ایک جھوٹے مقدمے میں گزشتہ چھ ماہ سے قید ہے۔ الزام صرف اتنا تھا کہ ایک موبائل فون میں وہ اپنے دوست کے ساتھ موجود تھا، جسے چوری کا مجرم قرار دیا گیا۔
خاتون کا کہنا تھاکہ"نہ پیٹ میں کھانے کو ہے، نہ جیب میں کرایہ، مگر انصاف پر یقین ہے۔"
انصاف کی تلاش یا نظام پر سوال؟
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب گزشتہ رات زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ملیر جیل میں بھگدڑ مچ گئی تھی اور 100 سے زائد قیدی جیل کی دیواریں توڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
اس ماں کا عمل جہاں مثالی کردار اور قانون دوستی کی روشن مثال ہے، وہیں نظامِ انصاف پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ قیدی محض شک کی بنیاد پر جیلوں میں سڑتے رہیں؟
اعلیٰ حکام سے اپیل
بیوہ ماں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کے کیس کی دوبارہ تحقیقات کی جائے اور اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے انصاف فراہم کیا جائے۔
ایسے واقعات معاشرے کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ جہاں ایک ماں اپنے دل پر پتھر رکھ کر قانون کی سربلندی کو ترجیح دیتی ہے، وہیں یہ ریاست سے بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
ویب ڈیسک: ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن نے پیر کی صبح جیل کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور جیل حکام سے بریفنگ حاصل کی۔
"نفسیاتی مسائل کا شکار قیدیوں میں بے چینی کا رجحان پایا جاتا ہے"
میڈیا سے گفتگو میں آئی جی سندھ نے انکشاف کیا کہ ملیر جیل میں زیادہ تر قیدی منشیات کے مقدمات میں ملوث ہیں، جن میں سے کئی افراد نفسیاتی دباؤ اور مسائل کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ"ایسے قیدیوں میں بے چینی، اشتعال انگیزی اور بغاوت کی کیفیت زیادہ دیکھی گئی ہے، جو ایسے افسوسناک واقعات کی وجہ بن سکتی ہے۔"
سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی تحسین
آئی جی سندھ نے پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقہ سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں متعدد فرار قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان
غلام نبی میمن نے واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ:کمیٹی میں پولیس، جیل اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔یہ کمیٹی واقعے کی وجوہات، سیکیورٹی میں موجود خامیوں اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔فرار قیدیوں کی جلد گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارشات بھی رپورٹ کا حصہ ہوں گی۔
مزید گرفتاریوں اور سیکیورٹی بہتر بنانے کا عزم
آئی جی سندھ نے کہا کہ فرار قیدیوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ جیل کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ٹیکنیکل اقدامات اور تربیتی اصلاحات بھی زیر غور ہیں۔
June 03, 2025
June 03, 2025
ویب ڈیسک: شہر قائد میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 216 قیدی دیواریں توڑ کر فرار ہو گئے، واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے بھرپور آپریشن شروع کر دیا، جس میں 80 قیدی دوبارہ گرفتار کر لیے گئے جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔
زلزلے کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے قیدی فرار:
ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث قیدیوں کو حفاظتی طور پر بیرکس سے باہر نکالا گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
فائرنگ کے تبادلے میں ایک قیدی ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔تین ایف سی اہلکار بھی جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے۔زخمیوں کو نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
500 سے زائد قیدیوں کی فرار کی کوشش:
ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی کے مطابق تقریباً 500 سے 600 قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جن میں سے 216 قیدی کامیاب ہوئے۔ پولیس اور رینجرز کی بروقت کارروائی سے 80 قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ نو مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
جیل کے اندر اور اطراف میں سیکیورٹی آپریشن
پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ ٹیموں نے ملیر جیل کو مکمل گھیرے میں لے لیا ہے۔
سکھن تھانے کو عارضی لاک اپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں دوبارہ گرفتار ہونے والے قیدیوں کو رکھا جا رہا ہے۔
جیل کے اندر قیدیوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے تاکہ درست تعداد کا تعین کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا بیان:
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملیر جیل کے واقع پر تشویش ہے اس پر تحقیقات چل رہی ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کے بعد قیدیوں کو نکالا گیا۔ ملیر جیل کے قیدیوںُ کو باہر نکالا گیا یہ غلط فیصلہ لیا گیا ذمہ داروں کو سزا ملے گی۔ ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے تھا ایک قیدی کی ڈیتھ ہو گئی۔216 قیدی فرار ہو ئے تھے 83 قیدی پکڑے گئے ہیں ۔
فرار ہونے والے قیدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ سرنڈر کر دیں نہیں تو اے ٹی سی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اعلیٰ حکام حرکت میں
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد شمریز نے ملیر جیل کا ہنگامی دورہ کیا۔
وزیر داخلہ نے جیل حکام سے واقعے کی رپورٹ لی اور ایس ایس پی ملیر کو فوری طور پر مفرور قیدیوں کی تلاش کا حکم دیا۔
وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کر لی۔
شہر بھر میں ہائی الرٹ
کراچی میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
شہر بھر میں ناکہ بندی، گشت، نگرانی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
ممکنہ روپوش قیدیوں کی تلاش کے لیے ضلع ملیر اور مضافاتی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
تحقیقات اور غفلت کے ذمہ داران کا تعین
وزیر جیل کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کو ہر صورت گرفتار کیا جائے گا اور واقعے میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
June 03, 2025
June 03, 2025
June 03, 2025
June 03, 2025
June 03, 2025
June 03, 2025