ویب ڈیسک: ملیر جیل سے گزشتہ شب فرار ہونے والے قیدیوں میں شامل نوجوان غلام حسین جب تھکن سے نڈھال ہو کر اپنے گھر عبداللہ گوٹھ پہنچا تو ماں کی ممتا نے اسے بانہوں میں سمیٹ لیا، مگر اگلے ہی لمحے قانون کی پاسداری اور ایمانداری کے جذبے نے اس ماں کو ایک بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اس نے اپنے بیٹے کو خود جیل واپس پہنچا دیا۔
"میرا بیٹا بے گناہ ہے، مگر قانون سے بھاگنے کا حق کسی کو نہیں"
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس باہمت بیوہ ماں نے بتایا کہ"رات ساڑھے تین بجے میرا بیٹا غلام حسین گھر آیا اور روتے ہوئے بتایا کہ وہ جیل سے فرار ہوگیا ہے۔ دل تو چاہا کہ اسے سینے سے لگا کر دنیا سے چھپا لوں، مگر فوراً اسے لے کر صبح چار بجے خود جیل کے دروازے پر پہنچ گئی۔"
ان کا کہنا تھا کہ غلام حسین چوری کے ایک جھوٹے مقدمے میں گزشتہ چھ ماہ سے قید ہے۔ الزام صرف اتنا تھا کہ ایک موبائل فون میں وہ اپنے دوست کے ساتھ موجود تھا، جسے چوری کا مجرم قرار دیا گیا۔
خاتون کا کہنا تھاکہ"نہ پیٹ میں کھانے کو ہے، نہ جیب میں کرایہ، مگر انصاف پر یقین ہے۔"
انصاف کی تلاش یا نظام پر سوال؟
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب گزشتہ رات زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ملیر جیل میں بھگدڑ مچ گئی تھی اور 100 سے زائد قیدی جیل کی دیواریں توڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
اس ماں کا عمل جہاں مثالی کردار اور قانون دوستی کی روشن مثال ہے، وہیں نظامِ انصاف پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ قیدی محض شک کی بنیاد پر جیلوں میں سڑتے رہیں؟
اعلیٰ حکام سے اپیل
بیوہ ماں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کے کیس کی دوبارہ تحقیقات کی جائے اور اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے انصاف فراہم کیا جائے۔
ایسے واقعات معاشرے کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ جہاں ایک ماں اپنے دل پر پتھر رکھ کر قانون کی سربلندی کو ترجیح دیتی ہے، وہیں یہ ریاست سے بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟




