ویب ڈیسک: شہر قائد میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 216 قیدی دیواریں توڑ کر فرار ہو گئے، واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے بھرپور آپریشن شروع کر دیا، جس میں 80 قیدی دوبارہ گرفتار کر لیے گئے جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔
زلزلے کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے قیدی فرار:
ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث قیدیوں کو حفاظتی طور پر بیرکس سے باہر نکالا گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
فائرنگ کے تبادلے میں ایک قیدی ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔تین ایف سی اہلکار بھی جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے۔زخمیوں کو نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
500 سے زائد قیدیوں کی فرار کی کوشش:
ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی کے مطابق تقریباً 500 سے 600 قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جن میں سے 216 قیدی کامیاب ہوئے۔ پولیس اور رینجرز کی بروقت کارروائی سے 80 قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ نو مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
جیل کے اندر اور اطراف میں سیکیورٹی آپریشن
پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ ٹیموں نے ملیر جیل کو مکمل گھیرے میں لے لیا ہے۔
سکھن تھانے کو عارضی لاک اپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں دوبارہ گرفتار ہونے والے قیدیوں کو رکھا جا رہا ہے۔
جیل کے اندر قیدیوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے تاکہ درست تعداد کا تعین کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا بیان:
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملیر جیل کے واقع پر تشویش ہے اس پر تحقیقات چل رہی ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کے بعد قیدیوں کو نکالا گیا۔ ملیر جیل کے قیدیوںُ کو باہر نکالا گیا یہ غلط فیصلہ لیا گیا ذمہ داروں کو سزا ملے گی۔ ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے تھا ایک قیدی کی ڈیتھ ہو گئی۔216 قیدی فرار ہو ئے تھے 83 قیدی پکڑے گئے ہیں ۔
فرار ہونے والے قیدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ سرنڈر کر دیں نہیں تو اے ٹی سی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اعلیٰ حکام حرکت میں
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد شمریز نے ملیر جیل کا ہنگامی دورہ کیا۔
وزیر داخلہ نے جیل حکام سے واقعے کی رپورٹ لی اور ایس ایس پی ملیر کو فوری طور پر مفرور قیدیوں کی تلاش کا حکم دیا۔
وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کر لی۔
شہر بھر میں ہائی الرٹ
کراچی میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
شہر بھر میں ناکہ بندی، گشت، نگرانی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
ممکنہ روپوش قیدیوں کی تلاش کے لیے ضلع ملیر اور مضافاتی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
تحقیقات اور غفلت کے ذمہ داران کا تعین
وزیر جیل کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کو ہر صورت گرفتار کیا جائے گا اور واقعے میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔




