ویب ڈیسک: ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن نے پیر کی صبح جیل کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور جیل حکام سے بریفنگ حاصل کی۔
"نفسیاتی مسائل کا شکار قیدیوں میں بے چینی کا رجحان پایا جاتا ہے"
میڈیا سے گفتگو میں آئی جی سندھ نے انکشاف کیا کہ ملیر جیل میں زیادہ تر قیدی منشیات کے مقدمات میں ملوث ہیں، جن میں سے کئی افراد نفسیاتی دباؤ اور مسائل کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ"ایسے قیدیوں میں بے چینی، اشتعال انگیزی اور بغاوت کی کیفیت زیادہ دیکھی گئی ہے، جو ایسے افسوسناک واقعات کی وجہ بن سکتی ہے۔"
سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی تحسین
آئی جی سندھ نے پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقہ سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں متعدد فرار قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان
غلام نبی میمن نے واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ:کمیٹی میں پولیس، جیل اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔یہ کمیٹی واقعے کی وجوہات، سیکیورٹی میں موجود خامیوں اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔فرار قیدیوں کی جلد گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارشات بھی رپورٹ کا حصہ ہوں گی۔
مزید گرفتاریوں اور سیکیورٹی بہتر بنانے کا عزم
آئی جی سندھ نے کہا کہ فرار قیدیوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ جیل کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ٹیکنیکل اقدامات اور تربیتی اصلاحات بھی زیر غور ہیں۔




