افغانستان کی مذاکراتی پیشکش مسترد، دہشت گردی بند ہونا پہلی شرط ہے: مشرف زیدی

افغانستان کی مذاکراتی پیشکش مسترد، دہشت گردی بند ہونا پہلی شرط ہے: مشرف زیدی
کیپشن: افغانستان کی مذاکراتی پیشکش مسترد، دہشت گردی بند ہونا پہلی شرط ہے: مشرف زیدی

ویب ڈیسک: وزیراعظم پاکستان کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے افغانستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ افغانستان کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے۔

ایک انٹرویو میں مشرف زیدی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “کوئی بات چیت نہیں ہوگی، کوئی مذاکرات نہیں، کوئی گفت و شنید نہیں، افغانستان سے دہشت گردی بند ہونی چاہیے۔”

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی اولین اور بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین کا تحفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو یہ معلوم ہو کہ کوئی دہشت گرد کسی مخصوص مقام پر موجود ہے تو اس مقام کو نشانہ بنا کر خطرے کا خاتمہ کیا جائے گا۔

مشرف زیدی کے بیان کو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سیکیورٹی معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔