ویب ڈیسک: ایران سے وابستہ ایک ہیکنگ گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں کی ای میلز چوری کر لی ہیں اور ان معلومات کو جلد افشا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس انکشاف نے خطے میں جاری کشیدگی کے ماحول کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں خود کو "رابرٹ" کہنے والے ایک ہیکر نے بتایا کہ اس کے پاس ٹرمپ کے حلقۂ مشیران سے متعلق 100 گیگا بائٹس پر مشتمل حساس ڈیٹا موجود ہے۔ اس میں سوزی وائلز (چیف آف اسٹاف)، لنڈسے ہیلیگن (ٹرمپ کی وکیل)، راجر اسٹون (مشیر) اور اسٹورمی ڈینیئلز سے متعلق ای میلز بھی شامل ہیں۔
یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ مسلح تصادم کے بعد خطے میں سیاسی و عسکری تناؤ عروج پر ہے۔
امریکی حکام نے اس سائبر حملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایران کی حکومت کی جانب سے تاحال اس الزام پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران ایسے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔ ہیکر "رابرٹ" نے عندیہ دیا ہے کہ وہ چوری شدہ ڈیٹا کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ یہ ہیکنگ گروپ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بھی سرگرم رہا تھا، جب ٹرمپ کے قریبی حلقوں سے جُڑی چند ای میلز لیک کی گئیں، جن میں قانونی اور مالی نوعیت کی معلومات سامنے آئی تھیں۔ تاہم ان لیکس کا انتخابی نتائج پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا، اور ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایران اب روایتی فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے غیر روایتی سائبر حملوں کو بطور حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، اور یہ حالیہ کارروائی اسی پالیسی کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔