ویب ڈیسک: دنیا بھر میں خوف کی علامت سمجھے جانے والے میکسیکو کے بدنامِ زمانہ منشیات فروش اور جالسکو نیو جنریشن کارٹیل کے سربراہ نیمیسو اوسیگیرا سروینٹس المعروف ال مینچو کی ہلاکت سے متعلق نئی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اہم کارروائی ایک خاتون کے ذریعے ممکن ہوئی جو مبینہ طور پر ال مینچو کے قریبی تعلق میں تھی اور سکیورٹی ادارے اس کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔
میکسیکو کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ مطلوب شخص تک رسائی اور اس کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی حکمتِ عملی تیار کرنے میں مذکورہ خاتون کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی۔ اس نگرانی نے حکام کو اس کے ممکنہ ٹھکانے تک پہنچنے میں مدد دی۔
خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ منشیات فروش کے ایک قریبی ساتھی نے اس خاتون کو ریاست جالسکو کے علاقے تاپالپا منتقل کیا۔ اس پیش رفت سے سکیورٹی حکام کو یقین ہوگیا کہ ال مینچو اسی علاقے میں موجود ہے اور اس سے ملاقات کرے گا۔ اسی اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کو حتمی شکل دی گئی اور آپریشن مکمل کیا گیا۔