(ویب ڈیسک)وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے جہاں کئی ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، وہیں برسوں کی منتوں اور دعاؤں کے بعد اولاد کی نعمت پانے والے باپ کی دنیا بھی چند لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئی۔
فتح جنگ (ضلع اٹک) سے تعلق رکھنے والے ایک بے بس باپ نے اسپتال کے صحن میں سر پکڑ کر روتے ہوئے انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور سفاکی کا پردہ چاک کر دیا۔
”4 بجے بیٹا پیدا ہوا، ساڑھے 5 بجے آگ نے سب راکھ کر دیا“
اشکبار آنکھوں کے ساتھ واقعے کی دلخراش تفصیلات بتاتے ہوئے باپ نے کہا کہ”اللہ پاک نے شادی کے 4 سال بعد مجھے پہلی اولاد کی صورت میں بیٹا دیا تھا۔ کل شام ہم اسپتال آئے، ٹیسٹوں اور خون ، وائیٹ بلڈ سیلز کا بندوبست کیا۔ شام چار بجے بیٹا دنیا میں آیا تو ڈاکٹروں نے کہا اسے نرسری وارڈ میں داخل کراؤ۔ ہم نے بیٹے کو نرسری میں داخل کرایا اور بمشکل ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تھا، ساڑھے پانچ یا پونے چھ بجے اچانک نرسری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔“
”وارڈ کو تالے لگے تھے، آگ کے شعلوں نے مجھے اٹھا کر باہر پھینکا“
متاثرہ باپ نے لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے پر اسپتال انتظامیہ کا ایک بھی شخص بچوں کو بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔
”نرسری کے دروازوں پر اندر کی طرف موٹے موٹے تالے لگے ہوئے تھے۔ اندر کوئی عملہ نہیں تھا جو دروازے کھولتا۔ میرا لخت جگر اندر تڑپ رہا تھا، مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے خود زبردستی تالے اور شیشے توڑے، اور آگ کے سمندر میں کود گیا۔ جونہی اندر داخل ہوا تو آگ کے شدید دھماکے اور شعلوں نے مجھے اٹھا کر باہر پھینک دیا۔“
4سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا آج وہ بھی چلا گیا، باپ پر قیامت ٹوٹ پڑی#PublicNews #PublicUpdates pic.twitter.com/rmRJCysYS2
— Public News (@PublicNews_Com) August 26, 2026
”اپنے ہاتھوں سے 4 سے 5 جلے ہوئے بچے باہر نکالے “
متاثرہ باپ نے انکشاف کیا کہ”انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے اور دھوکے بازی کر رہی ہے۔ جب میں اپنے بیٹے کو لے کر اندر گیا تھا تو وہاں کم از کم 100 بچے موجود تھے، انکیوبیٹرز میں دو دو اور چار چار بچے رکھے ہوئے تھے۔ جب آگ لگی تو میں نے اپنی جان پر کھیل کر اپنے ہاتھوں سے 4 سے 5 جھلسے ہوئے بچوں کو باہر نکالا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے ہمیں مزید اندر جانے اور ہاتھ لگانے سے روک دیا۔“
انہوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عملہ چادریں لا کر بچوں کو لپیٹ کر باہر نکالتا تو معصوم جانیں بچ سکتی تھیں، مگر کسی کو ایک باپ کے جلتے دل کی پروا نہ تھی۔
ایمرجنسی ایگزٹ، الارم اور فائر سسٹم سب غائب
متاثرہ والد نے سوال اٹھایا کہ اسپتال کی اس عمارت میں نہ کوئی فائر الارم بجا، نہ آگ بجھانے کے آلات کام کر رہے تھے اور نہ ہی کوئی ایمرجنسی اخراج کا راستہ تھا۔
اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام باپ نے ہاتھ جوڑ کر اعلیٰ حکام اور اربابِ اختیار سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس نااہل نظام اور مجرمانہ غفلت برتنے والے ذمہ داران کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔