(ویب ڈیسک) دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے نوعمر بچوں (Teenagers) کیلئے نئے اختیاری پیرنٹل کنٹرولز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بچوں کو آن لائن محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے عالمی سطح پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطاب قنئے ٹولز کے ذریعے والدین کو باقاعدہ آگاہی ملے گی کہ ان کا بچہ کس گروپ میں شامل ہو رہا ہے یا کون سا گروپ چھوڑ رہا ہے۔
والدین اپنے بچوں کے اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز خود طے کر سکیں گے، جن میں یہ فیصلہ شامل ہوگا کہ بچے کی پروفائل فوٹو کون دیکھ سکتا ہے اور انہیں کون گروپس میں ایڈ کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ والدین یہ بھی طے کر سکیں گے کہ ان کے بچے پبلک چینلز (Channels) کو کس طرح استعمال کریں اور ایپ میں موجود اے آئی اسسٹنٹ (Meta AI) کے مواد کو محدود (Limited Content) کر سکیں گے۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن اور پرائیویسی برقرار:
واٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ ان کنٹرولز کے باوجود والدین کو بچوں کے ذاتی پیغامات پڑھنے یا ان کی کالز سننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تمام چیٹس اور کالز بدستور 'اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ' رہیں گی اور ان کی رازداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
کنٹرول کا طریقہ کار:
والدین کسی بھی وقت ایک مخصوص پن (PIN) کوڈ کے ذریعے ان سیٹنگز کو فعال، تبدیل یا بند کر سکیں گے؛ اگر نوعمر بچے ان کنٹرولز کو بند کرنا چاہیں گے تو انہیں والدین کا سیٹ کردہ پن کوڈ درکار ہوگا۔
واضح رہے کہ مختلف ممالک میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم میسجنگ ایپ ہونے کے ناطے واٹس ایپ فی الوقت بیشتر پابندیوں سے مستثنیٰ ہے۔