ویب ڈیسک: (علی زیدی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت موجودہ امریکی حکومت نے یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد میں جزوی طور پر تعطل کا فیصلہ کر لیا ہے، جس میں فضائی دفاع کے جدید میزائل نظام بھی شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ یہ فیصلہ فوجی اخراجات اور دیگر ممالک کو دی جانے والی امداد کے ازسرِ نو جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس جائزے کی منظوری دی، جو کئی مہینوں سے جاری تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس فیصلے کا اثر یوکرین کے علاوہ دیگر ممالک کو دی جانے والی امداد پر بھی پڑے گا یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ " امریکی مفادات کو اولین" رکھنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی فضائی حملوں میں شدت کے بعد مغربی اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام میں مدد کی پرزور اپیل کی تھی۔
حالیہ ہفتوں میں روس نے یوکرین پر مسلسل رات کے وقت فضائی حملے کیے ہیں جن میں سینکڑوں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔ اتوار کو ایک حملے کے دوران یوکرینی فوج کے ایک F-16 طیارے کا پائلٹ ہلاک ہو گیا۔
زیلنسکی نے اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں کہا تھا کہ یوکرین "امریکی ساختہ فضائی دفاعی نظام خریدنے کے لیے تیار" ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
روس کے حملے شروع ہونے کے بعد سے امریکہ یوکرین کو سب سے زیادہ فوجی امداد فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، جس میں فضائی دفاعی نظام، ڈرونز، راکٹ لانچرز، ریڈار، ٹینک اور اینٹی ٹینک ہتھیار شامل ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر اپنے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی پر خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یوکرین کو امداد دینے کے توازن میں بڑی تبدیلی آئی ہے، اور امریکہ کی طویل المدتی حمایت کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
اپریل 2025 میں، کیئل انسٹیٹیوٹ برائے عالمی معیشت کے مطابق، یورپی یونین نے پہلی بار امریکہ سے زیادہ فوجی امداد فراہم کی، جس کا تخمینہ 72 ارب یورو (تقریباً 84.9 ارب ڈالر) لگایا گیا، جب کہ امریکی امداد 65 ارب یورو (تقریباً 76.6 ارب ڈالر) رہی۔
یہ تبدیلی اس وقت آئی جب مارچ میں زیلنسکی کے ساتھ ایک سخت الفاظ والے اوول آفس اجلاس کے بعد ٹرمپ نے اچانک یوکرین کی تمام فوجی امداد روک دی تھی، تاہم ایک ہفتے بعد دوبارہ امداد کی فراہمی شروع کر دی گئی تھی۔
گزشتہ ہفتے ہیگ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ یوکرین کو مستقبل میں پیٹریاٹ میزائل سسٹمز کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ پیٹریاٹ نظام کو دنیا کے سب سے مؤثر فضائی دفاعی ہتھیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، جو خاص طور پر بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل حملوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر ہیں۔
فی الحال یوکرین کے پاس تقریباً آدھا درجن امریکی ساختہ پیٹریاٹ سسٹمز موجود ہیں، جو روسی میزائل حملوں سے شہریوں کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم خدشہ ہے کہ کیف کے پاس ان سسٹمز کے لیے موجودہ میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔