ویب ڈیسک: لاہور میں غیرملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین میں سے ایک کی میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے تین افراد پر خاتون سے زیادتی کا الزام ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرہ خواتین سے ان کے ڈیجیٹل والٹ میں 19 ہزار امریکی ڈالر منتقل کروائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین نے ملزمان کے ساتھ کرپٹو کرنسی میں 4 سے 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی تھی، جس کے بعد ملزمان، جن میں رضا ڈار بھی شامل ہے، رقم کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
پولیس نے ملزمان اور متاثرہ خواتین کے ڈی این اے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں، جبکہ ملزمان کے موبائل فون بھی فرانزک جانچ کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق مزید تفتیش فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد آگے بڑھائی جائے گی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے کہا کہ ملزمان کے ساتھ کسی قسم کا خصوصی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ان کے بقول ملزمان کو عام ملزمان کی طرح حوالات میں رکھا گیا، ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، اور کیس کی تفتیش مکمل میرٹ اور شفافیت کے ساتھ جاری ہے۔