(ویب ڈیسک) دنیا بھر کے مالیاتی اور بینکنگ نظام میں ایک بڑا انقلاب رونما ہونے جا رہا ہے جہاں میڈیا رپورٹس کے مطابق مستقبل قریب میں روایتی پلاسٹک ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈز مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے اور صارف کا اسمارٹ فون ہی ایک جامع ڈیجیٹل بینک کا روپ دھار لے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آنے والے وقت میں بٹوے میں پلاسٹک کے متعدد کارڈز رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی، بلکہ صارفین کے اسمارٹ فون میں ایک واحد ’یونیورسل ڈیجیٹل کارڈ‘ موجود ہوگا۔
یہی ایک ڈیجیٹل کارڈ ضرورت کے وقت ڈیبٹ کارڈ بن جائے گا، خریداری کے دوران کریڈٹ کارڈ کا کردار ادا کرے گا اور ضرورت پڑنے پر پری پیڈ یا قسطوں (Installments) پر ادائیگیاں کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فنانشل ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنا شروع کر دیا ہے، ویزا (Visa) نے ’فلیکسیبل کریڈینشل‘ (Flexible Credential) نامی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کے تحت ایک ہی ڈیجیٹل کریڈینشل کو بیک وقت مختلف بینک اکاؤنٹس اور فنڈنگ ذرائع سے جوڑا جا سکے گا۔
اسی طرح ماسٹر کارڈ (Mastercard) نے ’ون کریڈینشل‘ (One Credential) متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے ڈیبٹ، کریڈٹ، پری پیڈ بیلنس اور اقساط کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب صارفین کو ہر خریداری کے لیے الگ کارڈ نکالنے کی زحمت نہیں ہوگی؛ صارف اپنے اسمارٹ فون ایپ سے خود طے کرے گا کہ اس وقت مطلوبہ رقم کس اکاؤنٹ یا کس طریقے سے کاٹی جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تصور اب محض مفروضہ نہیں رہا بلکہ اگست 2026 میں اس نے باقاعدہ عملی شکل اختیار کر لی ہے، جب عرب خطے میں مقبول مواصلاتی پلیٹ فارم ’بوٹم‘ (Botim) اور ماسٹر کارڈ نے اشتراک کرتے ہوئے ماسٹر کارڈ کے ’ون کریڈینشل‘ پر مبنی ایک آل اِن ون ڈیجیٹل کارڈ باضابطہ طور پر لانچ کیا۔
اس کارڈ کے تحت صارفین ایک ہی انٹرفیس سے پری پیڈ بیلنس، کریڈٹ سہولت اور اقساط کے فنڈنگ ذرائع کو آسانی سے استعمال کر رہے ہیں، جس سے ہر مالی ضرورت کے لیے الگ الگ پلاسٹک کارڈز رکھنے کا دور تیزی سے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔