حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بےنتیجہ ختم

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بےنتیجہ ختم

(ویب ڈیسک): ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اسپیکر چیمبر میں ہونے والے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات باضابطہ طور پر کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کی تمام تر ذمہ داری ایک دوسرے کے سر ڈال دی ہے۔

وفاقی وزیر رانا ثناء اللّٰہ نے واضح اور سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ اپوزیشن کے مجوزہ لانگ مارچ کو کسی بھی صورت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی کے اہم قومی معاملے پر وفاق کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج کی فراہمی جیسے مطالبات ثانوی اور چھوٹی باتیں تھیں، اصل اختلاف لانگ مارچ اور سیکیورٹی معاملات پر تھا۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ تعطل کے بعد فی الحال مذاکرات کے اگلے کسی دور کے لیے کوئی وقت یا تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

سینیٹر شیری رحمان کا بیان: 

مذاکراتی عمل میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے ملک کو سیاسی انتشار اور بحران سے بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے مطالبات کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے باہمی مسودے کو چار مرتبہ تبدیل کیا گیا۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے متعدد بار معاہدے کی شقوں پر رضامندی ظاہر کی مگر بعد میں اپنے ہی وعدوں سے مکر گئی۔

شیری رحمان کے مطابق مذاکرات کی بنیادی ناکامی کی بڑی وجہ اپوزیشن کا لانگ مارچ سے پیچھے نہ ہٹنا اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر شدید اختلافات تھے۔

Watch Live Public News