ویب ڈیسک: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوگیا، جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں۔
اجلاس میں حکومتی وفد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندے شریک ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری اور دیگر رہنما شامل ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان اور نوید قمر شریک ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنما اجلاس میں موجود ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ملک میں انصاف اور آئین کی بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ حکومت خلوصِ نیت سے مذاکرات کر رہی ہے اور دیکھتے ہیں کہ بات چیت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کوشش ہے کہ معاملات کا حل جمہوری انداز میں نکالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میز پر مختلف معاملات زیرِ غور لائے جاتے ہیں اور فریقین اپنی اپنی پارٹی پوزیشن پیش کرسکتے ہیں۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتیں، مذاکرات کے بارے میں بات چیت مذاکرات کی میز پر ہی ہوگی۔