(ویب ڈیسک) سرچ انجن اور ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی گوگل نے اپنی سب سے مقبول نیویگیشن سروس ’ گوگل میپس‘ کو باضابطہ طور پر اپنی مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشن ’ جیمنائی‘ (Gemini AI) کا حصہ بنا دیا ہے، جس کے تحت صارفین اب جیمنائی کے اندر ہی میپس ٹول کے ذریعے مقامات دریافت کر سکیں گے۔
ایک رپورٹ کے مطابق گوگل فروری 2026 سے اس فیچر کی آزمائش کر رہا تھا، جسے اب تمام اینڈرائیڈ اور آئی او ایس (iOS) صارفین کے لیے موبائل ایپ میں باقاعدہ طور پر متعارف کرا دیا گیا ہے۔
یہ نیا میپ ٹول جیمنائی ایپ کے اندر فوٹوز، کیمرا، اواتار، فائلز، گوگل ڈرائیو اور نوٹ بکس کے آپشنز کے ساتھ نظر آتا ہے۔
جب صارف جیمنائی ایپ میں میپ ٹول کا انتخاب کرتا ہے تو اسکرین پر ایک نقشہ نمودار ہوتا ہے جس میں صارف کی موجودہ لوکیشن نظر آتی ہے اور اس کے اردگرد کے علاقے پر ایک دائرہ بن جاتا ہے۔
صارف نقشے کو زوم اِن (Zoom In) اور زوم آؤٹ (Zoom Out) کر کے کسی بھی مخصوص جگہ کو باآسانی تلاش کر سکتے ہیں۔
اسکرین پر نیچے موجود ’ایکسپلور دی ایریا‘ (Explore the Area) کے آپشن پر کلک کرنے سے متعلقہ علاقے کا لوکیشن لیبل ظاہر ہوتا ہے۔
اس کے بعد صارف جیمنائی اے آئی سے براہِ راست اس مقام کے بارے میں سوالات پوچھ سکتے ہیں، مثلاً قریبی ریستوران، تفریحی مقامات یا راستوں سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
فی الوقت یہ سہولت صرف جیمنائی کی اسمارٹ فون ایپس تک محدود رکھی گئی ہے، تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ گوگل بہت جلد اس ٹول کو ویب براؤزرز اور ڈیسک ٹاپ ورژن کے لیے بھی جاری کر دے گا۔