ویب ڈیسک:وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو 3 خواتین کی سفارش پر ہٹایا گیا۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو سالانہ 500 ارب روپے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ملتے ہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کو مضبوط کرنے کے لیے دی گئی رقوم جلسے جلوسوں پر خرچ ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ہی بہترین راستہ ہے۔ 2018 میں ہمارے مینڈیٹ کو چرایا گیا۔ جبکہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ پی ٹی آئی پارٹی کے اندر کون سا فیصلہ کرتی ہے, علی امین کو رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے۔
اختیار ولی خان نے بڑی خبر دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو 3 خواتین کی سفارش پر ہٹایا گیا، ان کی لڑائی ہوگئی تھی، حال ہی میں اُن کی علیمہ خانم سے لڑائی ہوئی، پہلی لڑائی 24 یا 26 نومبر کو بشریٰ بی بی کے ساتھ ہوئی تھی اسی دوران سینیٹر مشعال یوسفزئی بھی آگئیں تھیں۔
ان تین خواتین کی شکایات سنتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کو ہٹایا۔
اختیار ولی خان نے اس پر کہا کہ ’ اور اس کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے جس کو 3 خواتین کی سفارش پر وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سہیل آفریدی کو جانتے تک نہیں ہیں۔