بھارت کا مشکوک شپنگ نیٹ ورک بے نقاب، تین جہاز امریکی فائرنگ سے ناکارہ

بھارت کا مشکوک شپنگ نیٹ ورک بے نقاب، تین جہاز امریکی فائرنگ سے ناکارہ
کیپشن:  بھارت کا مشکوک شپنگ نیٹ ورک بے نقاب - تین جہاز امریکی فائرنگ سے ناکارہ

ویب ڈیسک:  کشمیر میڈیا سروس نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون سے 11 جون کے دوران بھارتی عملے والے تین جہاز تیل کی اسمگلنگ کے دوران تباہ ہوگئے ہیں۔
 کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پالاؤ اور گنی بساؤ میں رجسٹرڈ نشانہ بننے والے بحری جہازوں پر بڑی تعداد میں بھارتی عملہ تعینات تھا۔ امریکی فوجی کارروائی میں تین بھارتی ملاح ہلاک ہوئے جبکہ 21 بھارتی عملے کے  ارکان کو بچالیا گیا۔ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق ہدایات نظرانداز کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا۔ خلیج میں مشکوک بحری نیٹ ورک نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔

 کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حملوں کے بعد مودی حکومت شدید دباؤ میں آگئی ہے۔ نئی دہلی نے عملے کے بھارتی ہونے کا اعتراف کیا، مگر جہازوں کی حقیقی ملکیت بتانے سے گریز کررہی ہے۔ جہازوں کے حقیقی مالکان اور چارٹررز کی شناخت پوشیدہ رہنے سے سنگین شکوک جنم لے رہے ہیں۔

بھارتی اپوزیشن نے مودی سرکار سے وضاحت طلب کی ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر بھارتی عملہ کیوں تعینات  تھا؟ مودی حکومت بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر خاموش کیوں ہے ؟  بھارتی ملاحوں کو غیر قانونی اسمگلنگ کرنے والے خطرناک جہازوں پر بھیجنے سے فائدہ کس نے اٹھایا؟
 کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جہاز  MT Marivex پاناما کی اس کمپنی سے منسلک تھا جس پر امریکا پہلے پابندیاں لگاچکا ہے۔ امریکی حکام بھارتی شپ منیجروں پر جہازوں کے نام اور رجسٹریشن بدل کر ایرانی تیل منتقل کرنے کے الزامات لگاچکے ہیں۔ مودی کے دوست بھارتی صنعتکار اڈانی بھارت کا 27 فیصد مجموعی اور 45.5 فیصد کنٹینر کارگو بزنس چلاتے ہیں۔ اس سے قبل منڈرا پورٹ پر ستمبر 2021 میں دو کنٹینروں سے تقریباً تین ٹن ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔ آف شور کمپنیوں، پابندی زدہ جہازوں اور غیر ملکی رجسٹریشن کا پیچیدہ نیٹ ورک جامع بین الاقوامی تحقیقات کا متقاضی ہے۔

Watch Live Public News