ویب ڈیسک: امریکا میں مقیم سکھ برادری واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم میں بڑی تعداد میں شرکت کرے گی۔
امریکی حکام نے سکھوں کے جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہوے اُن کو ریفرنڈم کی اجازت دی۔ خالصتان ریفرنڈم کا سلسلہ 2021 سے اب تک 8 ممالک میں کامیابی سے منعقد ہو چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خالصتان موومنٹ کے رہنما گرپت ونت پنہوں کو بزریعہ خط سکیورٹی کی گارنٹی دی۔کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا نے بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کرتے ہوئے سکھ کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
امریکی عدالت نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور RAW افسر کو خالصتان رہنما گرپت ونت پنہوں کے قتل کی سازش پر ملک بدر کر دیا ہے۔آسٹریلوی انٹیلی جنس نے بھی بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کو بے نقاب کرکے سکھ برادری کو تحفظ فراہم کیا۔
خیال رہے کہ خالصتان تحریک دنیا بھر میں بسنے والے 3 کروڑ سکھوں کی پرامن سیاسی جدوجہد ہے۔خالصتان ریفرنڈمز کو اب تک کسی بھی اقوام متحدہ رکن ملک نے غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ سکھ برادری کا واضح پیغام ہے کہ ہم پرامن طریقے سے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔بھارتی دباؤ اور پروپیگنڈے کے باوجود مغربی ممالک نے ریفرنڈم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔