پنجاب پر بھارت کی سخت گرفت کیخلاف بیرونِ ملک سکھ برادری کی مزاحمت، خالصتان کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

پنجاب پر بھارت کی سخت گرفت کیخلاف بیرونِ ملک سکھ برادری کی مزاحمت، خالصتان کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
کیپشن: پنجاب پر بھارت کی سخت گرفت کیخلاف بیرونِ ملک سکھ برادری کی مزاحمت، خالصتان کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

ویب ڈیسک: یکم اگست 2026 کو انڈیاناپولس کے جنوبی حصے میں انٹراسٹیٹ 465 ویسٹ پر خالصتانی پرچموں سے سجی گاڑیوں کا تقریباً پانچ میل طویل قافلہ نکالا گیا۔ امریکہ میں قائم سکھس فار جسٹس (SFJ)، نے اس ریلی کو منظم کیا اور پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔
صرف ایک ہفتے بعد، 8 اگست کو کلیولینڈ، اوہائیو میں تقریباً تین میل طویل ’’ خالصتان فریڈم کار ریلی‘‘ نکالی گئی، جس میں مودی حکومت کے تحت سکھوں کے خلاف مبینہ جبر اور سیاسی دباؤ کے الزامات کو دہرایا گیا۔

ان سرگرمیوں کا سب سے اہم مرحلہ 16 اگست کو انڈیاناپولس کے رچرڈ جی۔ لوگر پلازہ میں ہونے والا پنجاب آزادی ریفرنڈم تھا۔ صبح 9 بجے سے ہزاروں سکھ تارکینِ وطن نے ووٹنگ میں حصہ لیا، جبکہ SFJ کے مطابق وسطی انڈیانا میں سکھ برادری 15,000 سے زائد خاندانوں پر مشتمل ہے۔ ووٹنگ کے اختتامی وقت تک بھی سینکڑوں افراد قطاروں میں موجود تھے، جنہیں اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

SFJ کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے اس موقع پر شملہ کو مستقبل کی ’’جمہوریہ خالصتان‘‘ کا دارالحکومت قرار دیا۔  انہوں نے نئی دہلی پر الزام عائد کیا کہ وہ منشیات، کسانوں کی قرضوں سے جڑی خودکشیوں اور پنجاب میں آبادیاتی تبدیلی کے ذریعے سکھ اکثریت کو کمزور کر رہی ہے، جسے انہوں نے ’’تین محاذی جنگ‘‘ قرار دیا۔  پنوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اگر سکھ برادری کو اپنے وجود کے لیے خطرہ لاحق ہو تو اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

 ریفرنڈم سے قبل بھنڈرانوالے کی تصویر آویزاں ایک گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا، اس کے ٹائر پنکچر کیے گئے، شیشے توڑے گئے اور اس پر گرافٹی کی گئی۔ SFJ نے اس واقعے کا الزام ’’مودی کی حمایت یافتہ‘‘ عناصر پر عائد کیا اور انھوں نے کہا یہ بھارت کی مبینہ سرحد پار سیاسی دباؤ کی پالیسی ہے۔ ریفرنڈم کے دوران آویزاں بینرز میں ہردیپ سنگھ نجّر کے قتل اور امریکہ میں گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف مبینہ ناکام سازش کو بھی اسی تناظر کو اجاگر کیا گیا۔

 اگرچہ یہ ریفرنڈم قانونی طور پر پابند نہیں، تاہم امریکہ میں ایسی سیاسی سرگرمیاں اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آتی ہیں اور خالصتان حامی گروہوں کو اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ بھارت کے  اندرون اور بیرونِ ملک ہونے والی مسلسل  احتجاج ، ریلیاں اور ریفرنڈم ظاہر کرتے ہیں کہ سکھوں کے لیے خالصتان کا مسئلہ بدستور سیاسی طور پر متحرک ہے۔
 اس سلسلے کا اگلا مرحلہ 18 اکتوبر 2026 کو البرٹا، کینیڈا میں متوقع ہے۔
انڈیاناپولس سے کلیولینڈ اور اب البرٹا تک جاری سرگرمیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خالصتان کا مطالبہ سکھ سیاست میں ابھی ختم نہیں ہوا اور نئی دہلی کے لیے اسے مکمل طور پر خاموش کرنا آسان نہیں۔

Watch Live Public News