امریکی افواج نے عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے  مکمل طور پر  انخلا کرلیا

امریکی افواج نے عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے  مکمل طور پر  انخلا کرلیا

(ویب ڈیسک) امریکی افواج نے عراق کے مغربی علاقے میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل طور پر انخلا کر لیا ہے۔ اس بات کی تصدیق عراق کی وزارتِ دفاع نے کی ہے، جس کے مطابق انخلا کے بعد عراقی فوج نے اس اسٹریٹجک اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ عین الاسد ایئر بیس طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے زیرِ استعمال رہا، تاہم اب اس کے تمام عسکری اور انتظامی اختیارات مکمل طور پر عراقی فورسز کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ پیشرفت عراق کی خودمختاری کے فروغ اور سکیورٹی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ عراق کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ قیس المحمداوی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ حکومت کی اہم ترجیح ملک میں بین الاقوامی اتحاد کی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور دو طرفہ سکیورٹی معاہدوں کی جانب پیش رفت ہے۔

اسی تناظر میں عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ستمبر میں بیان دیا تھا کہ اب عراق میں 86 ممالک کی افواج کی موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی، کیونکہ بین الاقوامی اتحاد کے قیام کا مقصد پورا ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان امریکی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے مرحلہ وار انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے قیام پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے تحت سیکڑوں امریکی فوجیوں کی واپسی ستمبر 2025 تک متوقع تھی جبکہ مکمل انخلا 2026 کے اختتام تک ہونا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل توقع سے کہیں تیز ہو گیا ہے۔

Watch Live Public News