ویب ڈیسک: فیڈرل شریعت کورٹ (ایف ایس سی) نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) 1860 کی دفعہ 325 کو دوبارہ بحال کر دیا ہے، جس کے تحت خودکشی کی کوشش اب ایک بار پھر جرم شمار ہوگی۔
عدالت نے کرمنل لاز ایکٹ 2022 کو منسوخ کرتے ہوئے غیر اسلامی قرار دیا، جس کے تحت خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے خارج کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس اقبال حمید الرحمان، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، اور جسٹس امیر محمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا۔
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 کے مطابق، "جو کوئی بھی خودکشی کی کوشش کرے گا اور اس جرم کے ارتکاب کے لیے کوئی اقدام اٹھائے گا، اسے ایک سال تک سادہ قید، یا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔"
یہ قانون ایڈووکیٹ حماد سعید ڈار نے فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ کرمنل لاز ایکٹ 2022 قرآن و سنت کے احکامات کے منافی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کی استدعا کو قبول کرتے ہوئے اس بل کو منسوخ کر دیا، اور اب پی پی سی کی دفعہ 325 دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2022 میں اس وقت کے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کرمنل لاز ایکٹ 2022 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت خودکشی کی کوشش سے متعلق دفعہ 325 کو ختم کر دیا گیا تھا۔ یہ ترمیمی بل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر شہادت اعوان نے ستمبر 2021 میں پیش کیا تھا، جسے مئی 2022 میں سینیٹ اور اکتوبر 2022 میں قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا۔