(ویب ڈیسک)دورِ حاضر میں روزمرہ زندگی انٹرنیٹ اور وائی فائی راؤٹرز کی محتاج ہو چکی ہے، لیکن بیشتر صارفین راؤٹر کو مہینوں مسلسل آن رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی رفتار گرنے اور سنگین سیکیورٹی خدشات پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اگر وائی فائی راؤٹر کو کبھی بند یا ری اسٹارٹ نہ کیا جائے تو کنکشن کی مجموعی اسپیڈ بتدریج تنزلی کا شکار ہو جاتی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ نیٹ ورک میں سیکیورٹی خامیوں اور تیکنیکی رکاوٹوں کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، جس سے براؤزنگ اور ڈاؤن لوڈنگ سست ہو جاتی ہے۔
راؤٹر بھی ایک چھوٹے کمپیوٹر کی مانند کام کرتا ہے جس کی اپنی میموری اور پراسیسر ہوتا ہے۔ ری اسٹارٹ کرنے سے راؤٹر میں جمع ہونے والی غیر ضروری عارضی فائلز (Caches) کلیئر ہو جاتی ہیں، تمام بیک گراؤنڈ پراسیسز ریفریش ہو جاتے ہیں اور اندرونی سیکیورٹی پروٹوکولز نئے سرے سے فعال ہو کر ڈیوائس کی کارکردگی کو بحال کرتے ہیں۔
راؤٹر کو کتنے عرصے بعد ری اسٹارٹ کرنا چاہیے؟
ماہرین کے مطابق صارفین کو ہر ماہ کم از کم ایک مرتبہ اپنا راؤٹر لازمی ری اسٹارٹ کرنا چاہیے۔اگر اسے ہفتہ وار یا زیادہ بار بھی ری اسٹارٹ کیا جائے تو اس سے ڈیوائس کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ پرفارمنس مزید بہتر رہتی ہے۔
زیادہ تر جدید راؤٹرز کے ایڈمن پینل (Admin Settings) میں آٹو ری اسٹارٹ کا فیچر موجود ہوتا ہے، جس کی مدد سے صارف روزانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر خودکار ری اسٹارٹ کا وقت مقرر کر سکتا ہے۔
اگر راؤٹر پرانا ہے اور اس میں یہ سہولت موجود نہیں تو ماہرین کے مطابق اسے جدید اور محفوظ ماڈل سے تبدیل کرنا زیادہ سودمند رہتا ہے۔
ری اسٹارٹ کا درست طریقہ:
راؤٹر کو ری اسٹارٹ کرنے کے لیے کسی پیچیدہ فیکٹری ری سیٹ (Factory Reset) کی ضرورت نہیں ہوتی۔
صرف راؤٹر کا پاور بٹن بند کر کے چند سیکنڈز بعد دوبارہ آن کرنا یا پلگ نکال کر واپس لگانا ہی کارکردگی بحال کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔