(ویب ڈیسک )اگرچہ وائرلیس انٹرنیٹ کی جدید ترین ٹیکنالوجی وائی فائی 7 ابھی دنیا بھر میں مکمل طور پر عام نہیں ہو سکی، تاہم اس کے اگلے ورژن وائی فائی 8 کی تیاری تیزی سے جاری ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران وائی فائی ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن صارفین کو اکثر وہ رفتار حاصل نہیں ہو پاتی جو لیبارٹری ٹیسٹوں میں دکھائی جاتی ہے۔ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وائی فائی 8 (802.11bn) میں صرف رفتار بڑھانے کے بجائے کنکشن کے استحکام اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
وائی فائی 7 کی طرح نئے معیار میں بھی زیادہ سے زیادہ 46 جی بی پی ایس ڈیٹا ریٹ برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم اصل بہتری حقیقی استعمال کے دوران محسوس ہوگی۔ اسی وجہ سے وائی فائی 8 کو "الٹرا ہائی ریلائی ایبلٹی" کا نام بھی دیا گیا ہے۔
یہ نیا معیار 2.4 گیگا ہرٹز، 5 گیگا ہرٹز اور 6 گیگا ہرٹز بینڈز پر کام کرے گا، لیکن اس کی خاص بات کمزور سگنلز کے باوجود بہتر کارکردگی اور زیادہ مستحکم کنکشن فراہم کرنا ہوگی۔
وائی فائی 8 ایک ہی وقت میں زیادہ تعداد میں ڈیوائسز کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے گا، جس کے نتیجے میں گیمنگ، ویڈیو اسٹریمنگ اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کا تجربہ مزید بہتر ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ فریز ہونے یا رفتار میں اچانک کمی آنے کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
نئے معیار کا ایک اہم ہدف ڈیڈ زونز کے مسئلے کو کم کرنا اور ایسے مقامات پر بھی بہتر سگنل فراہم کرنا ہے جہاں بڑی تعداد میں ڈیوائسز بیک وقت نیٹ ورک استعمال کر رہی ہوں۔
جولائی 2025 میں کوالکوم کی ایک بلاگ پوسٹ میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ وائی فائی 8 کا بنیادی مقصد صرف زیادہ رفتار فراہم کرنا نہیں بلکہ ڈیوائسز کو مسلسل آن لائن رکھنا اور زیادہ مستحکم کنیکٹیویٹی کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرز (IEEE) 2027 تک وائی فائی 8 کے معیار کو حتمی شکل دے سکتا ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کی تجارتی دستیابی 2028 میں متوقع ہے۔