(ویب ڈیسک ) وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومتی قرضوں میں روزانہ 20 ارب روپے اضافے کی خبر پاکستان کے عوامی قرضوں کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کرتی۔
وزارتِ خزانہ نے بیان میں کہا ہے کہ قرضوں کی حقیقی صورتحال جانچنے کے لیے ان کا موازنہ معیشت کے حجم، یعنی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی)، سے کرنا ضروری ہے، پاکستان کے قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 2023 کے اختتام پر 75 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 کے اختتام پر 68 فیصد رہ گیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق حکومتی قرضوں میں اضافے کی سالانہ شرح مالی سال 2023 میں تقریباً 26 فیصد تھی، جو مالی سال 2026 میں نمایاں کمی کے بعد 7.7 فیصد رہ گئی، مالی سال 2026 میں حکومتی قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی، جبکہ مالی سال 2007 سے 2026 کے دوران یہ شرح اوسطاً 16.7 فیصد سالانہ رہی۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اگست 2026 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے قرضوں میں جون 2026 کے مقابلے میں تقریباً 689 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،حکومتی بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 2023 میں 33 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 کے اختتام پر 23 فیصد رہ گیا،حکومتی بیرونی قرضے مالی سال 2022 کے اختتام پر 100 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 کے اختتام پر 106.8 ارب ڈالر ہوئے، یعنی اوسط سالانہ اضافہ محض 1.7 ارب ڈالر رہا،اس کے برعکس، مالی سال 2015 سے 2022 کے دوران حکومتی بیرونی قرضے 54.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر ہوئے، یعنی اوسط سالانہ اضافہ تقریباً 6.4 ارب ڈالر تھا۔
Please see the attached clarification by the Ministry of Finance on misleading claims regarding central government debt, setting out the factual position.
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) October 19, 2026
وزارتِ خزانہ کے مطابق قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات مالی سال 2025 میں تقریباً 8,900 ارب روپے سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں تقریباً 6,900 ارب روپے رہ گئے،مجموعی وفاقی محصولات کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی کا تناسب مالی سال 2023 میں 64 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 38 فیصد رہ گیا۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2025، مالی سال 2026 اور مالی سال 2027 کے ابتدائی عرصے میں تقریباً 5,920 ارب روپے سے ذاید کے مہنگے قرضے مقررہ مدت سے پہلے واپس کیے، اندرونی قرضوں کی اوسط میعاد مالی سال 2024 میں 2.7 سال سے بڑھ کر تقریباً 4 سال ہو گئی، جس سے قرضوں کی واپسی کا دباؤ کم ہوا، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ستمبر 2026 تک بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر ہو گئے، جبکہ اس سے قبل یہ کم ترین سطح پر 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق قرضوں میں مجموعی اضافے کو دنوں کی تعداد پر تقسیم کر کے روزانہ قرض گیری ظاہر کرنا حقائق اور ملک کی قرضوں کی حقیقی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتا، پاکستان میں قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہوا، قرضوں میں اضافے کی رفتار سست پڑی، ادائیگیوں کے اخراجات میں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے۔