ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کر تے ہوئے کہا کہ تمام رکن ممالک مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں، اور ایک وقت تھا جب اس خطے میں امن کا تصور بھی ناممکن تھا۔
غزہ بورڈ آف پیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں بڑے بڑے مسائل حل ہوئے ہیں اور انہوں نے آٹھ جنگوں کو روکا ہے۔ یوکرین میں امن قائم کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق ان کے دور میں امریکی معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔
ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان تناؤ کم کرنے میں ان کا کردار رہا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایک کروڑ لوگوں کی جانیں بچائی گئیں۔
ٹرمپ نے غزہ اور حماس کے بارے میں کہا کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں، اور اگر یہ ممکن نہ ہوا تو اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں داعش مضبوط ہوئی، جبکہ اپنے پہلے دور میں انہوں نے داعش کے سربراہ کو ختم کیا تھا۔ ایران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر ایران بات چیت چاہتا ہے تو امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے بارے میں کہا کہ وہاں کے عوام خوش ہیں اور وہ نئی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے 62 فیصد تیل کے ذخائر ہیں۔ نیٹو ممالک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسپین کے علاوہ تمام نیٹو ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں 5 فیصد اضافہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا نے عالمی سطح پر امن اور استحکام کی جانب پیشرفت کی ہے اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔