تاجکستان نے افغان سرزمین سے ڈرون حملہ “دہشتگرد گروہوں کی کارروائی” قرار دےدیا

تاجکستان نے افغان سرزمین سے ڈرون حملہ “دہشتگرد گروہوں کی کارروائی” قرار دےدیا

(ویب ڈیسک ) تاجکستان نے واقعے کو “دہشت گرد گروہوں کی کارروائی” قرار دے کر اس پر شدید تشویش اور مذمت کی اور اسے پڑوسی ملک کی سمت سے ہونے والی سرحدی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی کہا۔

وزارت خارجہ تاجکستان کے مطابق  نومبر کی شب افغانستان کی سرزمین سے تاجکستان کے ختلان ریجن میں LLC “Shahin SM” کے کیمپ پر مسلح ڈرون حملہ کیا گیا، حملہ UAV کے ذریعے کیا گیا جو گرنیڈ اور خودکار اسلحہ سے لیس تھی، ہدف 1st بارڈر گارڈ پوسٹ “استقلال” کے کنٹرول ایریا میں واقع کیمپ تھا۔ 

وزارت خارجہ تاجکستان کا کہنا ہے کہ  حملے کے نتیجے میں “Shahin SM” کمپنی کے تین چینی شہری موقع پر جاں بحق ہو گئے، کمپنی سرحدی علاقے میں تعمیراتی و معدنی منصوبوں پر کام کر رہی تھی۔ 

تاجکستان نے واقعے کو “دہشت گرد گروہوں کی کارروائی” قرار دے کر اس پر شدید تشویش اور مذمت کی اور اسے پڑوسی ملک کی سمت سے ہونے والی سرحدی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی کہا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ تاجکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششوں کے باوجود افغان سرزمین پر موجود مجرمانہ و دہشت گرد گروہوں کی جارحانہ سرگرمیاں جاری ہیں۔

 وزارت خارجہ تاجکستان  کے مطابق دوشنبے نے کابل کی حکمران اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے گروہوں کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور دو ہمسایہ ممالک کی سرحد پر سلامتی کو یقینی بنائے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق  یہ پہلا واقعہ نہیں، نومبر 2024 میں بھی تاجک۔افغان سرحد کے زر بوزی گورج علاقے میں سرحد پار حملے میں ایک چینی شہری جانبحق اور چار زخمی ہوئے تھے، حملہ آور افغانستان کی سمت سے آئے تھے۔

اُس واقعے پر چینی دفترِ خارجہ نے سخت مذمتی بیان میں اسے “بربرانہ حملہ” قرار دیا اور تاجکستان کے ساتھ مل کر سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اب ختلان ریجن میں تین مزید چینی شہریوں کی ہلاکت سے واضح ہے کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی صرف پاکستان نہیں، تاجکستان اور خطے میں چینی مفادات کے لیے بھی براہِ راست خطرہ بن چکی ہے۔ 

یاد رہے کہ پاکستان میں بھی چینی کارکنوں اور سی پیک منصوبوں پر متعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری ایسے گروہ قبول کرتے رہے ہیں جن کے نیٹ ورک اور پناہ گاہوں کا مرکز افغان سرزمین بتائی جاتی ہے۔ 

علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق   تاجکستان اور طالبان حکومت کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، سرحد پر راکٹ و فائرنگ کے واقعات اور تاجک مخالف شدت پسند گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی پر دوشنبے مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔ 

علاقائی سکیورٹی تجزیہ کار کے مطابق  حالیہ برسوں میں “اسلامک اسٹیٹ خراسان” اور تاجک عسکریت پسند گروہوں نے بھی افغانستان سے تاجکستان کے خلاف کارروائیوں کی دھمکیاں دیں جس پر تاجک قیادت نے CSTO اور چین کے ساتھ اضافی سرحدی سکیورٹی تعاون کی اپیل کی۔ 

اسی تناظر میں اس ہفتے چینی وزیرِ خارجہ کے دورۂ دوشنبے کے دوران چین اور تاجکستان نے مشترکہ سرحدی پیٹرولنگ اور انسدادِ دہشت گردی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، تازہ حملہ اس تعاون کی فوری ضرورت کو اجاگر کر رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پس منظر میں یہ بھی اہم ہے کہ تاجکستان نے حال ہی میں بھارت کی واحد بیرونِ ملک فوجی تنصیب Ayni ایئر بیس پر بھارتی موجودگی ختم کر دی، متعدد رپورٹس کے مطابق دوشنبے نے معاہدہ توسیع نہ کرتے ہوئے بھارتی عملہ اور اثاثے واپس بھیج دیے۔

▪ Ayni بیس برسوں تک بھارت کے لیے افغانستان، پاکستان اور سنکیانگ کے قریب انٹیلی جنس و لاجسٹک آپریشنز کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، اب اس کا خاتمہ نئی دہلی کے لیے بڑی اسٹریٹجک پسپائی قرار دیا جا رہا ہے۔

علاقائی مبصرین کے مطابق Ayni بیس سے بھارتی اخراج کے بعد کابل اور دوشنبے کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اور افغان سرزمین سے چینی اہداف پر حملوں کا تسلسل، اس پورے تھیٹر میں نام نہاد “خوارج” نیٹ ورکس اور ان کے بیرونی سرپرستوں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔

بعض تجزیہ کار یہ رائے دے رہے ہیں کہ افغان سرزمین سے چین اور تاجکستان کے خلاف حالیہ حملوں کو بھارت کے اسٹریٹجک نقصان (Ayni بیس کے خاتمے) کے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ اس مفروضے کی براہِ راست شواہد ابھی سامنے نہیں آئے۔

علاقائی سکیورٹی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ واقعہ پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ہے کہ طالبان کے کنٹرول کے بعد بھی افغانستان عالمی و علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور سرحد پار حملوں کا نشانہ صرف پاکستان نہیں، تاجکستان اور چین بھی بن رہے ہیں۔ 

تجزیہ کار کے مطابق  پاکستان کے لیے اس واقعے کو سفارتی و میڈیا سطح پر اس مثال کے طور پر اجاگر کرنا اہم ہو گا کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی ایک مشترکہ علاقائی مسئلہ ہے، جس کے لیے پاکستان، تاجکستان، چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی بنانا ہو گی۔ 

Watch Live Public News