(ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی کار کے پولیس وین سے ٹکرانے کے وائرل واقعے کی حقیقت سامنے آگئی، واقعے کے وقت گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر موجود شخص نے حادثے کی تمام تر تفصیلات بیان کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے عینی شاہد رپورٹر نے بتایا کہ احسان ظفر عباسی ایک باصلاحیت نوجوان ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ کے ذریعے ڈرائیور لیس گاڑی چلانے کا نظام تیار کیا تھا،سٹوڈیو کے بجائے آن فیلڈ اس کا پریکٹیکل ٹیسٹ کرنے کے لیے ڈی چوک کا مقام منتخب کیا گیا۔
رپورٹر محمد عالی جا نے کہا کہ ٹیسٹ رن کے دوران نوجوان احسان ظفر تقریباً 100 میٹر کے فاصلے سے موبائل کے ذریعے گاڑی کنٹرول کر رہا تھا، تاہم موسم کی خرابی اور بارش کے باعث انٹرنیٹ میں تعطل یا تکنیکی خرابی پیش آئی جس سے کنٹرول ختم ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب دیکھا کہ گاڑی سامنے موجود پولیس وین سے ٹکرانے لگی ہے تو فوری طور پر ہینڈ بریک کھینچی گئی جس سے گاڑی کی رفتار کم تو ہوئی مگر تب تک وہ پولیس موبائل کو ہٹ کر چکی تھی۔
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں!بغیرڈرائیورچلنےوالی گاڑی پولیس وین سےجاٹکرائی!حادثےکی اصل وجہ سامنےآگئی! پولیس وین سے ٹکر کے بعد کیا ہوا؟#PublicNews #PublicUpdates pic.twitter.com/8VO5gkUtlZ
— Public News (@PublicNews_Com) September 1, 2026
رپورٹر نے بتایا کہ ٹکراؤ کے بعد پولیس اہلکار ابتدا میں حیران اور غصے میں باہر نکلے کہ بغیر ڈرائیور کے گاڑی کیسے چل رہی ہے، تاہم جب انہیں پورے انوویشن پروجیکٹ اور تکنیکی مسئلے کے بارے میں سمجھایا گیا تو انہوں نے صورتحال کو سمجھا۔بعد ازاں پولیس حکام کی جانب سے کسی قسم کی قانونی کارروائی کرنے کے بجائے نقصان کا تخمینہ لگا کر معاملہ باہمی طور پر حل کر لیا گیا اور طالب علم کی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی۔
رپورٹر محمد عالی جاکا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو اور انتباہی مواد شیئر کرنے کا مقصد عوامی آگاہی اور مستقبل میں مزید بہتری لانا تھا تاکہ حفاظتی تدابیر کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ناکامی یا چھوٹی غلطیاں ہی بڑی سائنسی کامیابیوں کا پہلا زینہ ہوتی ہیں۔