(ویب ڈیسک ) ہندوقوم پرست تنظیموں کی سرپرست انتہا پسند پارٹی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سربراہ نے ہندؤوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کم از کم 3 بچے ضرور پیدا کریں کیونکہ اگر کسی معاشرہ کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.1 سے کم ہو جائے تو وہ تباہ ہو جائے گا.
ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہندوتوا تنظیم کے ہیڈکوارٹر ناگپور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں خواتین کی بارآوری (فرٹیلیٹی) کی گرتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جوڑوں کو کم از کم تین بچے پیدا کرنے چاہئیں تاکہ بھارت کی آبادی میں کمی نہ آئے۔
موہن بھاگوت کئی سال قبل بھی ہندو جوڑوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔ انہوں نے 18 اکتوبر 2016 کو ہندوؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، "کون سا قانون کہتا ہے کہ ہندوؤں کی آبادی نہیں بڑھنی چاہئے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ جب دوسروں کی آبادی بڑھ رہی ہے تو ان (ہندوؤں) کے سامنے کیا روکاوٹ ہے؟" بھاگوت کے بیان پر بعض حلقوں نے شدید نکتہ چینی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 'کٹمب‘ (خاندان) معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہے، جس میں ہر خاندان ایک اکائی کے طور پر کام کرتا ہے۔
بھاگوت نے مزید کہا، ''کم ہوتی آبادی تشویشناک ہے کیونکہ پاپولیشن سائنس کے مطابق اگر ہم 2.1 سے نیچے چلے جائیں تو وہ معاشرہ فنا ہو جائے گا، کوئی بھی اسے تباہ نہیں کرے گا، یہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔ اس لیے اسے کسی بھی قیمت پر 2.1 سے نیچے نہیں آنا چاہیے۔ 1998 یا 2002 مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، کی آبادی کی پالیسی کے مطابق کہا گیا تھا کہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.1 سے نیچے نہیں ہونی چاہیے۔ اب کوئی انسان 0.1 فریکشن میں پیدا نہیں ہوا ہے … اس لیے اسے کم از کم تین ہونا چاہیے۔"
نام لئے بغیر مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیونٹیز کے درمیان آبادی کا عدم توازن جغرافیائی حدود کو متاثر کر سکتا ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ملک میں کمیونٹیز کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو، جن کی پارٹی بی جے پی کی قیادت والی مرکز کی این ڈی اے حکومت کی حلیف ہے، نے اپنی ریاست میں لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر زور دیا اور کہا، "ہم زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو ترغیبات فراہم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جوڑوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔"
ان کی حکومت نے ریاست میں بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو بچوں کی شرط کو بھی ختم کر دیا۔
نائیڈو کے تبصرے کے ایک دن بعد، ان کی پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے بھی انہیں خیالات کا اظہار کیا۔ ایک اجتماعی شادی کی تقریب کے دوران انہوں نے '16 بچے' پیدا کرنے کا مشورہ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ممکنہ سیاسی نمائندگی کی تبدیلیوں کے مدنظر یہ ضروری محسوس ہوتا ہے۔
دوسری جانب آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ موہن بھاگوت کو یہ مشورہ پہلے بی جے پی رہنماؤں کو دینا چاہیے۔
این سی پی کے لیڈر جتیندر اوہاد نے پوچھا، "آپ (بھگوت) جو چاہیں کہہ سکتے ہیں لیکن ان (بچوں) کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ انہیں کون کھلائے گا؟ کون انہیں اسکولوں میں داخل کرے گا؟ کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں؟ ہندوستان اتنا امیر؟".
این سی پی لیڈر نے مزید کہا کہ "کسی کے کتنے بچے ہونے چاہئیں - کچھ چیزیں لوگوں کی ذاتی پسند پر چھوڑ دیں۔ شوہر اور بیوی کو یہ فیصلہ کرنے دیں یا آپ ان پر دباؤ ڈالیں گے؟ 4 بچے؟"۔