ویب ڈیسک: آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سینئر رہنما، سابق سینئر وزیر اور سابق قائم مقام وزیراعظم راجہ عبدالقیوم خان نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ آج (جمعرات) استحکام پاکستان پارٹی میں باضابطہ شمولیت اختیار کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ عبدالقیوم خان اپنے ہزاروں حامیوں اور سیاسی ساتھیوں کے ہمراہ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق وہ آئندہ عام انتخابات میں حلقہ کھاوڑہ سے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑیں گے۔
ذرائع کے مطابق راجہ عبدالقیوم خان نے آئندہ انتخابات کے لیے حلقہ کھاوڑہ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواست دی تھی، تاہم پارٹی قیادت نے حال ہی میں مسلم کانفرنس چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے ثاقب مجید راجہ کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی کی سینئر قیادت کو نظر انداز کیے جانے پر راجہ عبدالقیوم خان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہی اختلافات کے بعد انہوں نے اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
راجہ عبدالقیوم خان کا شمار مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے بااثر اور دیرینہ رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ 2016 کے عام انتخابات میں انہوں نے حلقہ کھاوڑہ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر 26 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔
مظفرآباد کے حلقہ کھاوڑہ سے تعلق رکھنے والے راجہ عبدالقیوم خان آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ ماضی میں سینئر وزیر اور قائم مقام وزیراعظم کے عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ چار مرتبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق راجہ عبدالقیوم خان کی ممکنہ شمولیت استحکام پاکستان پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات خصوصاً حلقہ کھاوڑہ، مظفرآباد اور مجموعی طور پر آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر نمایاں طور پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔