ویب ڈیسک:17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو گزشتہ روز اسلام آباد جی-I سیکٹر ان کے گھر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا، اُس وقت ثنا کے والد کہاں تھے؟ بھائی کہاں تھا؟ والدہ نے کیا دیکھا، ثنا کی والدہ کے علاوہ گھر میں اور کون موجود تھا؟ سب کچھ سامنے آگیا؟
اپنے ویلاگ میں سینیئر صحافی منصور علی خان نے بڑی خبر دیتے ہوئے کہا کہ ثنا یوسف کے قتل کا مقدمہ اُس کی والدہ کی مدعیت میں درج کرلیا گیا، لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔
سینئر صحافی منصور علی خان نے بتایا کہ والدہ نے اپنے بیان میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز شام 5 بجے نامعلوم شخص ہمارے گھر میں داخل ہوا جس نے کالے رنگ کی شرٹ اور ٹراؤزر پہنا ہوا تھا اور ہاتھ میں پستول تھا، واقعہ کے وقت میرے شوہر گھر پر نہیں تھے جبکہ میرا 15 سالہ بیٹا بھی چترال گاؤں گیا ہوا تھا۔
مقتولہ ثنا یوسف کی والدہ نے کہا کہ ملزم نے قتل کے ارادے سے کمرے میں موجود میری بیٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ثنا کو دو گولیاں لگیں، ہمارے شور کرنے پر نامعلوم شخص موقع سے بھاگ گیا جبکہ اہل محلہ جمع ہوگئے، اپنی زخمی بیٹی کو لیکر ہسپتال پہنچے مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ فوت ہوگئی۔
مقتولہ کی والدہ کا مزید کہنا تھا میری بیٹی ایک سوشل میڈیا انفوئنسر تھی، میری نند لطیفہ شاہ جو بطور مہمان ہمارے گھر میں موجود تھیں وہ اس واقعہ کی چشم دید گواہ ہیں، میں اور میری نند ملزم کو سامنے آنے پر شناخت بھی کرسکتے ہیں۔