ویب ڈیسک: چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر تھیں، تاہم کارکردگی کے ساتھ دیگر معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ میچز میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد اقدامات ضروری تھے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی عہدے پر کسی شخص کو مقرر کرنے کے لیے تین سال کی مدت لازمی نہیں، جہاں جس کھلاڑی کی ضرورت ہوگی اسے موقع دیا جائے گا، کیونکہ پاکستان کے لیے ہر میچ اہم ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی واقعی خراب ہے اور اس کی کچھ وجوہات ہیں جن پر فی الحال بات کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہتری آئے گی، جیسے ون ڈے اور ٹی20 میں آئی ہے۔
چیئرمین پی سی بی کے مطابق نئی کوچنگ ٹیم کے آنے کے بعد پاکستان ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں سے پانچویں نمبر پر آیا، جبکہ ٹی20 میں نویں سے چھٹے نمبر پر پہنچا۔ ان کے بقول قومی ٹیم نے 6 میں سے 4 دوطرفہ سیریز جیتیں اور کامیابی کی شرح 24 سے بڑھ کر 74 فیصد ہوگئی۔
سلمان علی آغا کے حوالے سے محسن نقوی نے کہا کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں، تاہم حالیہ کارکردگی پر ان سے بات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلیکشن میں غلطیاں ہوسکتی ہیں اور ذمہ داروں سے جواب بھی لیا جائے گا، تاہم کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے۔ کسی کو ذاتی طور پر ان پر تنقید کرنی ہے تو کریں، لیکن پاکستان کرکٹ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
پاکستان ٹیم برمنگھم پہنچ گئی
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم پہنچ گئی ہے جہاں قومی ٹیم کل ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں ٹریننگ کرے گی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔
یاد رہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے امام الحق سمیت 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا تھا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سابق کپتان مصباح الحق نے بھی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بعد سلیکشن پینل سے استعفیٰ دے دیا۔
پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے دو ٹیسٹ میچز میں مؤثر مقابلہ نہیں کرسکا۔