ویب ڈیسک: امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی ملک اچھی پیشکش کرے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد اضافی ٹیرف عائد کردیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان نے مصالحتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ڈبلیو ٹی او کے پاکستان میں نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں پاکستانی مؤقف کی وضاحت کیلئےامریکی تجارتی نمائندے سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی حکام سے ملاقات کا ٹاسک واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اور ان کے ٹریڈ منسٹر کو سونپا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام کو صدر ٹرمپ کی اضافی ٹیرف کے حوالے سے 60 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کی شمولیت کی توقع نہیں تھی کیونکہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف پہلے ہی پاکستان کی نسبت زیادہ ہے۔
وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق امریکی مصنوعات پر پاکستان میں ٹیرف 7.3 فیصد جبکہ پاکستانی برآمدات پرامریکا میں9.9 فیصد ٹیرف عائد ہے، نیز پاکستان ان ملکوں کی فہرست میں33ویں نمبر پر ہے جن سے امریکا کو تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔
وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران امریکا کو پاکستانی برآمدات کا حجم3.9 ارب ڈالر جبکہ اس دوران امریکا سے 933 ملین ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔امریکا کیساتھ فاضل تجارت 3 ارب ڈالر ہے جوکہ دیگر 32 ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
حکام کوامید ہے کہ وہ 29 فیصد اضافی ٹیرف کے امریکی فیصلے پر نظرثانی کا مضبوط کیس تیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے امریکی فیصلے سے پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف 49 فیصد تک بڑھ سکتا ہے،جن میں سرفہرست گارمنٹس اور چمڑے کی مصنوعات ہیں۔
پاکستان امریکا سے سویابین، کاٹن اور گوشت درآمد کرتا ہے، کاٹن پر ٹیرف صفر، گوشت پر5 سے10فیصد، سویابین پر3.25 ٹیرف عائد ہے، البتہ آئرن و اسٹیل کی درآمدات پر 20 فیصد ٹیرف ہے جوکہ مقامی کارخانوں کو تحفظ دینے کیلئے ہے۔
حکام نے بتایا کہ چین، ویتنام، کمبوڈیا اور سری لنکا پر عائد زائد ٹیرف پاکستان کیلئے ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کا موقع ہے۔
اچھی پیشکش کریں تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ٹرمپ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کوئی ملک اچھی پیشکش کرے تو ٹیرف پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ٹک ٹاک معاہدے کی منظوری کی صورت میں چین کو ٹیرف میں ریلیف مل سکتا ہے، ٹک ٹاک معاہدے کے بہت قریب ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا میں امن چاہتا ہوں روس اور یوکرین امن کی جانب بڑھ رہے ہیں، حوثی حملے کررہے ہیں اور ایران ان کی مدد کررہا ہے، مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، اسرائیل اور غزہ کا ایشو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جب میں غزہ اور اسرائیل معاملے میں شامل ہوا تو مغویوں کو رہائی ملی، ایلون مسک چند ماہ میں حکومتی مشاورتی کردار چھوڑ سکتے ہیں، مسک کے بعد بھی حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔