معرکہ ہلی: میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)کی بہادری اور جوانمردی کی عظیم داستانِ شجاعت

معرکہ ہلی: میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)کی بہادری اور جوانمردی کی عظیم داستانِ شجاعت
کیپشن: معرکہ ہلی: میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)کی بہادری اور جوانمردی کی عظیم داستانِ شجاعت

ویب ڈیسک: میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938ء کو ضلع گجرات کے گاؤں ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ میجر محمد اکرم کے خاندان کے بیشتر افراد کا تعلق پاک فوج کےکسی نہ کسی شعبے سے تھا۔ آپ کو سپاہ گری اور دلیری وراثت میں ملی۔ 

میجر محمد اکرم نے 1961ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ آپ 4 فرنٹئیر فورس رجمنٹ کا حصہ بنے اور 1970 میں میجر کے رینک پر فائز ہوئے۔ 1971کی پاک بھارت جنگ کے دوران میجر محمد اکرم مشرقی پاکستان میں ہلی کے محاذ پر ایک کمپنی کی قیادت کر رہے تھے۔

دُشمن کے ایک بریگیڈ نے آپ کی کمپنی کے دفاعی حصار کو توڑنے کے لیے متعدد حملے کئے۔ ہندوستانی فوج، توپ خانے، بکتر بند اور فضائیہ کی عددی برتری کے باوجود آپ کی کمپنی نے مسلسل5دن اور 5 راتوں تک دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا۔ 

5دسمبر  1971 کو چاروں اطراف سے آپ کی کمپنی دُشمن کے نرغے میں آگئی۔ میجرمحمداکرم نے اپنے زیرِ کمان ساتھیوں کوحکم دیا کہ وہ دستیاب گولہ بارود کے ذخیرے کو ممکنہ حد تک احتیاط سے استعمال کریں تاکہ دُشمن کے قریب آنے پر یکبارگی بھرپور جواب دیا جا سکے۔

انتہائی مشکل حالات سے دوچار میجر محمد اکرم اور اُن کے جانباز ساتھیوں نے شجاع وار دُشمن پر بھرپور اور اچانک حملہ کردیا۔ اس اچانک حملہ نے نہ صرف مکار دشمن کو ورطہِ حیرت میں مُبتلا کردیا بلکہ اسے بھاری جانی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑا۔

بھرپور مزاحمت کے نتیجے میں ہندوستانی فوج مادرِ وطن کے ایک اِنچ پر بھی قبضہ کرنے کی جرأت نہ کر سکی۔ زخموں سے بے نیاز میجر محمد اکرم دفاعِ وطن کے اِس معرکے میں شہید ہو گئے۔

میجرمحمداکرم شہید کی بے مثال جرات و بہادری کے اعتراف میں آپکو پاکستان کےسب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔

میجر محمد اکرم کی بے مثال جرأت ، دلیری اور بے باکی کا اعتراف ہندوستانی کمانڈر انچیف نے بھی کیا۔

Watch Live Public News