پاک، سعودی، ترکیہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا

پاک، سعودی، ترکیہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا
کیپشن: پاک، سعودی، ترکیہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا

ویب ڈیسک: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا ہے۔

بھارتی میڈیا ادارے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ فوجی مشقیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ دفاعی پیداوار سے پاکستان کی جنگی تیاری مزید مضبوط ہوسکتی ہے، جبکہ ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیتوں تک پاکستان کی رسائی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق سعودی عرب کی مالی معاونت اور ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔ بھارتی میڈیا نے معاہدے کے ممکنہ دفاعی فوائد کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک اہمیت کا بھی اعتراف کیا ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے دفاعی معاہدے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیکیورٹی و دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔

ترک صدر کے مطابق معاہدہ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جبکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کے حق کی بھی توثیق کرتا ہے۔

رجب طیب اردوان نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں برادر ممالک کے لیے کھلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ تنازعات اور بحرانوں کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر مبنی اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔ ترک صدر نے دعا کی کہ یہ معاہدہ خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ بنے۔

Watch Live Public News