ویب ڈیسک: او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ باقاعدہ قومی ویکسین پالیسی تیار کر لی گئی ہے اور مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 4 ملین ڈالرز مالیت کی ویکسین درآمد کرتا ہے، جس میں 51 فیصد لاگت حکومتِ پاکستان جبکہ 49 فیصد گاوی اور دیگر ڈونرز ادا کرتے ہیں۔ تاہم 2030 کے بعد پاکستان کو ویکسین کی سو فیصد لاگت خود برداشت کرنا ہوگی، جو مجموعی طور پر 1.2 بلین ڈالرز بنتی ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق اس چیلنج کے پیش نظر سعودی عرب کے ساتھ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے شراکت داری پر کام جاری ہے، جبکہ چین اور انڈونیشیا سے بھی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی پر مشتمل ملک ہے، جہاں حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم اس وقت ملک میں کسی بھی ویکسین کی مقامی تیاری نہیں ہو رہی۔
وفاقی وزیر صحت نے او آئی سی ویکسین الائنس کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو قلیل، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند قوم اور معاشی استحکام براہِ راست قومی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔