ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کے بعد تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر پاکستان کی وفاقی حکومت ایندھن کی بچت کے لیے مختلف کفایتی اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں گاڑیوں کی رفتار کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویزملک نے ایک نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی حکمتِ عملی توانائی کے استعمال میں کمی اور عوامی طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے ایندھن کی کھپت کم کرنے پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ زندگی میں ایسی عادات اپنانا ضروری ہیں جن سے توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام صوبائی حکومتوں سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور وفاقی حکومت جلد ایندھن کی بچت کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کرے گی۔ ان اقدامات میں گاڑیوں کی رفتار کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ رفتار پر گاڑیوں میں ایندھن کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق ماضی میں بھی ایسے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کوروناکے دوران ورک فرام ہوم اور تعلیمی اداروں میں آن لائن تعلیم جیسے اقدامات سے توانائی کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کی گئی تھی۔
دوسری جانب حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ نئے نرخوں کے تحت پیٹرول کی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ادھر بعض حلقوں کی جانب سے روسی تیل درآمد کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے لیے روسی خام تیل درآمد کرنا تکنیکی اور مالی لحاظ سے ممکن نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ روس کا یورال خام تیل نسبتاً بھاری ہوتا ہے جبکہ پاکستان کی بیشتر ریفائنریز پرانی ہائیڈرو اسکیمنگ ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں، سوائے پاک عرب ریفائنری کمپنی کے۔ بھاری خام تیل کو ان ریفائنریز میں صاف کرنے سے فرنس آئل زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ فرنس آئل پر آلودگی کے باعث بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی پروگرام کے تحت کاربن لیوی بھی عائد ہوتی ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل کم کرنے کے لیے اس حوالے سے آئی ایم ایف سے بھی بات چیت کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قطرسے مائع قدرتی گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہونے کے بعد حکومت بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل استعمال کرنے کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے۔