دماغی صحت کو متاثر کرنے والی 5 روزمرہ عادات

دماغی صحت کو متاثر کرنے والی 5 روزمرہ عادات
کیپشن: دماغی صحت کو متاثر کرنے والی 5 روزمرہ عادات

ویب ڈیسک: روزمرہ زندگی کی بعض عام عادات بظاہر معمولی لگتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ توجہ، یادداشت، نیند اور ذہنی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دماغ ہمارے معمولات اور تجربات کے مطابق خود کو ڈھالتا رہتا ہے، اس لیے چند آسان تبدیلیاں دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردم کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ بیدار ہونے کے بعد کچھ وقت باہر قدرتی روشنی میں گزارنا نیند اور دن کے دوران بیداری کے معمول کو بہتر رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا اور مختلف ایپس کو بار بار چیک کرنے سے دماغ کو مسلسل نئے محرکات کا سامنا ہوتا ہے، جس سے توجہ برقرار رکھنا مشکل اور ذہنی تھکن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بہتر ہے کہ فون کے استعمال کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے جائیں اور غیر ضروری اسکرولنگ کم کی جائے۔

سونے کے قریب کھانا بعض افراد میں نیند کے معیار کو متاثر کرسکتا ہے۔ چونکہ مناسب نیند یادداشت اور دماغی کارکردگی کے لیے اہم ہے، اس لیے رات کے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ رکھنا بہتر ہے۔

طویل عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ نیند، توجہ اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے۔ دباؤ کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی وجوہات کو سمجھنا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا زیادہ مفید ہے۔

گھنٹوں مسلسل بیٹھے رہنے سے تھکن اور توجہ میں کمی محسوس ہوسکتی ہے۔ کام یا مطالعے کے دوران ہر گھنٹے بعد چند منٹ کے لیے اٹھنا، چہل قدمی یا ہلکی ورزش کرنا جسم اور ذہن دونوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

دماغی صحت کے لیے روزمرہ معمولات میں چھوٹی تبدیلیاں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ قدرتی روشنی، مناسب نیند، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، موبائل کا محدود استعمال اور ذہنی دباؤ پر قابو مجموعی ذہنی صحت بہتر رکھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔

Watch Live Public News