مصنوعی سویٹنر اسپرٹیم سے فالج کے بعد دماغی نقصان بڑھنے کا خدشہ 

مصنوعی سویٹنر اسپرٹیم سے فالج کے بعد دماغی نقصان بڑھنے کا خدشہ 
کیپشن: مصنوعی سویٹنر اسپرٹیم سے فالج کے بعد دماغی نقصان بڑھنے کا خدشہ 

ویب ڈیسک:   مصنوعی سویٹنر اسپرٹیم (Aspartame) سے متعلق نئی تحقیق میں فالج کے دوران دماغی نقصان بڑھنے کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم یہ نتائج ابھی انسانوں پر ثابت نہیں ہوئے۔

تحقیق چوہوں اور لیبارٹری میں تیار کیے گئے دماغی خلیوں پر کی گئی۔ چوہوں کو ایک ہفتے تک اسپرٹیم ملا پانی دینے کے بعد اسکیمک فالج جیسی کیفیت پیدا کی گئی۔

نتائج کے مطابق اسپرٹیم استعمال کرنے والے چوہوں میں دماغ کے مردہ بافتوں کا رقبہ نمایاں طور پر زیادہ تھا۔ زیادہ مقدار لینے والے چوہوں میں یہ رقبہ تقریباً 58.6 فیصد رہا، جبکہ اسپرٹیم نہ لینے والے چوہوں میں تقریباً 24.3 فیصد تھا۔

تحقیق میں اسپرٹیم کے استعمال سے دماغی خلیوں کی موت میں بھی اضافہ دیکھا گیا، خصوصاً دماغ کے ان حصوں میں جو سوچ، سیکھنے اور یادداشت سے متعلق ہیں۔

لیبارٹری تجربات میں اسپرٹیم سے متاثرہ خلیوں میں توانائی کی پیداوار تقریباً 25 فیصد کم ہوئی۔ محققین کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ مائٹوکونڈریا کو پہنچنے والا نقصان اور آکسیڈیٹو اسٹریس میں اضافہ ہے۔

تحقیق میں سکرالوز اور ایسیسلفیم پوٹاشیم بھی آزمائے گئے، تاہم ان میں اسپرٹیم جیسا اضافی زہریلا اثر نہیں دیکھا گیا۔

محققین نے واضح کیا ہے کہ نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ اسپرٹیم عام حالات میں انسانوں کے دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تحقیق صرف اس امکان کا جائزہ لیتی ہے کہ فالج کے دوران آکسیجن کی کمی کی صورت میں اسپرٹیم دماغی نقصان کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے انسانوں پر مزید تحقیق ضروری ہے۔

Watch Live Public News